امریکی سینیٹ ایران پر حملے روکنے میں ناکام
یوتھ ویژن نیوز: (ویب ڈسک) امریکی سینیٹ ایران پر حملے روکنے میں ناکام، ایران کے جوابی میزائل حملے، سعودی عرب نے الخرج کے قریب کروز میزائل مار گرانے کا دعویٰ کردیا۔
واشنگٹن / تہران — مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران امریکی سینیٹ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران پر حملوں سے روکنے میں ناکام ہو گئی جبکہ ایران اور اسرائیل کے درمیان میزائل اور ڈرون حملوں کا تبادلہ شدت اختیار کر گیا ہے۔
امریکی سینیٹ نے ایران پر حملے روکنے کی قرارداد مسترد کر دی
خبر ایجنسیوں کے مطابق امریکی سینیٹ میں پیش کی گئی وہ قرارداد جس میں کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران پر فوجی کارروائی روکنے کا مطالبہ کیا گیا تھا، 100 رکنی ایوان میں 47 کے مقابلے 52 ووٹوں سے مسترد کر دی گئی۔ اس قرارداد کو ڈیموکریٹ اور ری پبلکن دونوں جماعتوں کے چند سینیٹرز نے پیش کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ایران کے خلاف فضائی حملوں کو فوری طور پر روکا جائے اور کسی بھی فوجی کارروائی سے پہلے کانگریس کی منظوری حاصل کی جائے۔ تاہم سینیٹ میں ری پبلکن پارٹی کی اکثریت کے باعث قرارداد منظور نہ ہو سکی اور صدر ٹرمپ کی حکومت کو ایران کے خلاف جاری کارروائیوں میں سیاسی حمایت مل گئی۔
اس دوران امریکی اور اسرائیلی افواج کی جانب سے ایران کے مختلف شہروں پر حملوں کا سلسلہ جاری رہا جن میں تہران، قم، ہمدان، اصفہان، شیراز اور کرمان شامل ہیں۔ رپورٹس کے مطابق بعض حملوں میں سرکاری تنصیبات کے ساتھ ساتھ رہائشی علاقوں کو بھی نقصان پہنچا جبکہ تہران میں آزادی اسکوائر کے مغرب میں متعدد مقامات پر دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔
ایرانی حکام کے مطابق مہرآباد ایئرپورٹ کے قریب بھی حملہ کیا گیا جبکہ شہر سننداج میں سرکاری ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی عمارت کو نشانہ بنایا گیا جس سے اردگرد کی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے ان حملوں کے جواب میں اسرائیل پر میزائل اور ڈرون حملوں کی انیسویں لہر شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کے جواب میں خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں کویت اور بحرین میں قائم اڈے شامل ہیں۔
ترجمان کے مطابق ایران نے 40 سے زائد میزائل داغے جبکہ کارروائیوں کے دوران امریکا اور اسرائیل کے 10 ڈرون بھی تباہ کر دیے گئے۔ ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران میں حکومت کی تبدیلی کی کوشش کی گئی تو اسرائیل کی جوہری تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب لبنان میں سرگرم تنظیم حزب اللہ نے بھی اسرائیل کے خلاف کارروائیوں کا دعویٰ کیا ہے۔
حزب اللہ کے مطابق تل ابیب کے جنوب میں ایک فوجی اڈے کو ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا گیا جو اسرائیل کے آئرن ڈوم ریڈار سسٹم سے منسلک تھا۔ حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی حملے منظم جارحیت ہیں اور اب صبر کی حد ختم ہو چکی ہے، انہوں نے کہا کہ ان کی تنظیم قربانی دینے کیلئے تیار ہے لیکن ہتھیار نہیں ڈالے گی۔
ادھر لبنان میں اسرائیلی حملوں میں بھی شدت آ گئی ہے اور بیروت میں ایک رہائشی کمپلیکس پر حملے کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق جبکہ 6 زخمی ہو گئے۔ رپورٹوں کے مطابق لبنان میں حالیہ جھڑپوں کے بعد جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد 75 تک پہنچ چکی ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب نے بھی فضائی دفاعی کارروائی کا دعویٰ کیا ہے۔
سعودی وزارت دفاع کے مطابق الخرج سٹی کے قریب آنے والے تین کروز میزائلوں کو فضا میں ہی مار گرایا گیا جس کے باعث کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔ حکام کا کہنا ہے کہ میزائلوں کو بروقت نشانہ بنانے کے باعث شہری علاقوں کو محفوظ رکھا گیا۔ خطے میں جاری اس کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے اور تجزیہ کاروں کے مطابق اگر صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو مشرق وسطیٰ میں جنگ مزید وسیع ہو سکتی ہے۔