سعادت حسن منٹو کی 71ویں برسی، بے باک قلم آج بھی زندہ

سعادت حسن منٹو کی برسی پر ادبی پروگرام میں ان کی تصویر یا یادگار تصویر، جس میں ان کے بے باک قلم اور ادب میں خدمات کو اجاگر کیا گیا ہے۔

خصؤصی تحریر :(اُمِ ہانی سے) سعادت حسن منٹو کی 71ویں برسی: بے باک افسانہ نگار کی تحریریں آج بھی اردو ادب میں زندہ اور اثر انگیز ہیں۔

لاہور: معروف اور بے باک افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کو ہم سے بچھڑے 71 برس بیت گئے، مگر ان کی تحریریں آج بھی اسی شدت، سچائی اور اثر کے ساتھ پڑھی اور سمجھی جاتی ہیں۔

منٹو اردو ادب کے ان چند بڑے ناموں میں شامل ہیں جنہوں نے معاشرے کے چھپے ہوئے تضادات، انسانی نفسیات اور سماجی ناانصافیوں کو بلا خوف و مصلحت اپنے قلم کا موضوع بنایا۔ تقسیمِ ہند کے پس منظر میں ان کے افسانے تاریخ، درد اور انسانیت کا عکس ہیں جو آج بھی قاری کو جھنجھوڑ دیتے ہیں۔ منٹو کی تحریروں میں سچ کو نہ تو خوبصورت بنا کر پیش کیا گیا اور نہ ہی اس پر پردہ ڈالا گیا۔

بے لاگ تحریروں کے باعث انہیں زندگی میں شدید تنقید، مقدمات اور مخالفت کا سامنا رہا، مگر انہوں نے قلم کی آزادی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ آج بھی ان کا ادبی ورثہ نئی نسل کے لیے شعور، سوال اور فکر کی بنیاد فراہم کرتا ہے، اور منٹو کا قلم معاشرتی ناانصافیوں اور انسانی حقائق کی بیداری کے لیے روشن رہنما کی حیثیت رکھتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں