اڈیالہ جیل کے باہر ہائی الرٹ! 700 سے زائد اہلکار تعینات

“ڈیالہ جیل کے باہر پولیس کی بھاری نفری اور ہائی الرٹ سیکیورٹی انتظامات

یوتھ ویژن نیوز: (عمران قذافی سے) اڈیالہ جیل کی سیکیورٹی ہائی الرٹ، 700 سے زائد اہلکار تعینات۔ عمران خان کی صحت افواہوں، پی ٹی آئی دھرنے اور حکومتی ردعمل نے صورتحال مزید حساس بنا دی۔

راولپنڈی میں صورتحال ایک بار پھر کشیدہ ہو گئی ہے جہاں ممکنہ خطرات اور سیاسی تناؤ کے پیش نظر اڈیالہ جیل کی بیرونی سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے، اور اطراف میں خصوصی سیکیورٹی پلان غیر معینہ مدت کے لیے نافذ ہو چکا ہے، جس کے تحت پانچ اہم پکٹس پر بھاری نفری تعینات کرتے ہوئے اہلکاروں کو ربڑ بلٹس، آنسو گیس، ڈنڈوں، شیلڈز اور اینٹی رائٹ کِٹ سے لیس کر دیا گیا ہے۔

سیکیورٹی اپ گریڈ کیوں؟ پولیس کے مطابق عمران خان کی صحت سے متعلق سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں اور پی ٹی آئی کارکنان کے مسلسل دھرنوں کے باعث کسی بھی ہنگامی صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے یہ اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ سیکیورٹی پلان کی تفصیل جیل کے اطراف گیٹ ون، گیٹ فائیو, فیکٹری ناکہ، داہگل ناکہ اور گورکھ پور ناکہ پر پولیس کی 12-12 گھنٹے کی دو شفٹس مقرر کی گئی ہیں جن میں 23 انسپکٹرز اور 700 سے زائد اہلکار شامل ہیں جبکہ ٹریفک پلان کے لیے 10 افسران اور لفٹرز بھی تعینات ہیں۔

سیاسی ردعمل کیا ہے؟ صورتحال پر وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی افغانستان اور بھارتی میڈیا سے چلنے والے ”منفی بیانیے “پر کھیل رہی ہے جس سے پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچا، جبکہ ایک خاتون سیاستدان پر الزام ہے کہ انہوں نے بیرونی اکاؤنٹس کے ذریعے عمران خان کی ”جھوٹی صحت مہم“ کو بڑھایا۔ پی ٹی آئی کا ردعمل؟ پی ٹی آئی کے کارکنان اور خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے اڈیالہ کے باہر دھرنا دیتے ہوئے عمران خان کی صحت سے متعلق شفافیت کا مطالبہ کیا تھا جو بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ شنوائی نہ ملنے پر ختم کیا گیا۔ ماہرین کا تجزیہ سیکیورٹی ہائی الرٹ، سیاسی دھرنوں، افواہوں اور حکومتی موقف کے درمیان ملک میں ایک بار پھر سیاسی کشیدگی کے نئے مرحلے کا آغاز نظر آ رہا ہے جس کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں