پُرامن پولنگ کے باوجود نتائج متنازع؟ فافن کا ضمنی الیکشن پر بڑا انکشاف
یوتھ ویژن نیوز: (واصب ابراہیم سے) فافن رپورٹ کے مطابق ضمنی انتخابات میں 93٪ پولنگ پُرامن رہی، مگر نتائج کے عمل میں شفافیت کا خلا اور کم ٹرن آؤٹ نے انتخابی نظام پر سوال اٹھا دیے ہیں۔
فافن نے 23 نومبر کو ہونے والے ضمنی انتخابات پر اپنی تفصیلی رپورٹ میں انتخابی انتظامات کو مجموعی طور پر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے اس عمل کو مثبت پیش رفت کہا ہے، تاہم فافن رپورٹ اور شفافیت کا سوال رپورٹ کے مطابق نتائج کے مرحلے میں شفافیت کا نمایاں خلا موجود رہا جس نے انتخابی عمل پر اعتماد کے حوالے سے سنجیدہ سوالات کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔
فافن کے 122 مبصرین نے ملک بھر کے 373 پولنگ اسٹیشنز کا مشاہدہ کیا اور بتایا کہ ترانوے فیصد پولنگ بوتھس پر ووٹنگ پُرامن اور منظم ماحول میں مکمل ہوئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انتظامی سطح پر امن و امان اور بنیادی انتخابی نظم میں کافی حد تک بہتری آئی ہے، تاہم کم ٹرن آؤٹ اور نتائج پر سوالیہ نشان اسی رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ زیادہ تر حلقوں میں ووٹر ٹرن آؤٹ 50 فیصد سے کم ریکارڈ ہوا، جو ایک طرف عوامی سیاسی دلچسپی میں کمی اور دوسری جانب سیاسی پولرائزیشن، بے اعتمادی اور تھکن کے رجحان کو ظاہر کرتا ہے، مبصرین کے مطابق کم ٹرن آؤٹ جمہوری مینڈیٹ کی اخلاقی طاقت کو بھی کمزور کرتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا کہ 49 فیصد پولنگ اسٹیشنز پر سیاسی جماعتوں کی جانب سے ووٹرز کی آمد و رفت میں سہولت کاری دیکھی گئی، جسے ایک طرف انتخابی متحرک ماحول کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، لیکن دوسری جانب یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کہیں یہ سہولت کاری ووٹر کے آزادانہ انتخابی فیصلے پر دباؤ یا اثرانداز ہونے کا سبب تو نہیں بنی۔
فافن نے یہ بھی بتایا کہ خواتین، بزرگ شہریوں اور معذور ووٹرز کے لیے انتظامات غیر یکساں اور کئی مقامات پر ناکافی رہے، جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہماری انتخابی پالیسی میں ابھی تک ان طبقات کو مرکزی حیثیت حاصل نہیں ہو سکی، حالانکہ شمولیتی جمہوریت کے لیے ان کی باعزت اور محفوظ شرکت ناگزیر ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ 97 فیصد پولنگ ایجنٹس نے پولنگ کے عمل پر اطمینان کا اظہار کیا جو اس بات کا مثبت اشارہ ہے کہ کم از کم پولنگ کے دن کا انتظامی فریم ورک بڑی حد تک قبولِ عام پایا، لیکن فافن کے مطابق اصل تشویش وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں ووٹ ڈالنے کا عمل ختم ہوتا ہے اور نتائج مرتب کرنے، فارموں کی تیاری، ڈیٹا کی ترسیل اور حتمی نتیجہ مرتب کرنے کے مراحل آتے ہیں۔
رپورٹ میں زور دیا گیا کہ مستقبل میں ایسے میکنزم کی ضرورت ہے جس کے تحت نتائج کے ہر مرحلے پر ڈیجیٹل شفافیت، بروقت معلومات کی فراہمی، فارموں تک عوامی رسائی اور مبصرین کی مؤثر موجودگی کو یقینی بنایا جا سکے، تاکہ سیاسی جماعتوں کے اعتراضات کم ہوں، عدالتوں پر بوجھ نہ بڑھے اور ووٹر کو یہ اعتماد ملے کہ جس امیدوار کو اس نے ووٹ دیا، اس کا شمار اور اعلان بھی اسی شفافیت کے ساتھ ہوا۔ فافن نے اپنی رپورٹ میں ضمنی انتخابات کے نسبتاً پُرامن انعقاد کو سراہتے ہوئے واضح کیا کہ اگر اس موقع کو انتخابی اصلاحات، بہتر ٹریننگ، شمولیتی انتظامات اور نتائج کے عمل میں مکمل شفافیت کے لیے استعمال نہ کیا گیا تو آئندہ عام انتخابات میں یہی خامیاں سیاسی تنازعات اور عدم اعتماد کو مزید بڑھا سکتی ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ الیکشن کمیشن، پارلیمان، سیاسی جماعتیں اور سول سوسائٹی مل کر شفاف، معتبر اور کانٹیکسٹ بیسڈ انتخابی نظام کی تعمیر پر سنجیدہ مکالمہ شروع کریں۔