امریکی رپورٹ میں ’’معرکۂ حق‘‘ پر بھارت کی شکست بے نقاب
یوتھ ویژن نیوز: (ثاقب ابراہیم سے) امریکہ میں پیش کی جانے والی امریکہ۔چین اکنامک اینڈ سیکیورٹی ریویو کمیشن کی تازہ رپورٹ نے ’’معرکۂ حق‘‘ کے حوالے سے بھارتی پروپیگنڈا، گمراہ کن بیانیے اور حقائق کو مسخ کرنے کی کوششوں کو ایک بار پھر بے نقاب کردیا ہے، جبکہ رپورٹ میں واضح طور پر اعتراف کیا گیا ہے کہ سات سے دس مئی کے دوران ہونے والی چار روزہ جھڑپ میں پاکستان نے بھارت پر عسکری برتری قائم رکھتے ہوئے فیصلہ کن فتح حاصل کی۔
واشنگٹن میں موجود ذرائع کے مطابق بھارتی حکومت، جس نے ہمیشہ کی طرح اپنی عسکری ناکامیوں کو چھپانے کیلئے داخلی اور خارجی سطح پر جھوٹے بیانیے کا سہارا لیا، اس بار بھی امریکی کمیشن کی رپورٹ سامنے آتے ہی اپنی روایتی جارحانہ مہم جوئی کا آغاز کر بیٹھی اور گودی میڈیا کے ذریعے رپورٹ کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوشش میں لگ گئی تاکہ عوامی سطح پر پیدا ہونے والی خفت اور عالمی سطح پر ہونے والی سبکی کو کسی نہ کسی طور پر کم کیا جا سکے۔ امریکی کانگریس میں پیش کی گئی رپورٹ میں یہ حقیقت تسلیم کی گئی ہے کہ ’’معرکۂ حق‘‘ کے دوران بھارتی رافیل طیاروں کے گرنے کے بعد بھی نئی دہلی نے غلط دعووں کا سہارا لیا، مگر ٹھوس شواہد، آزادانہ رپورٹس اور عالمی میڈیا نے نہ صرف بھارتی بیانیے کو مسترد کیا بلکہ پاکستان کی عسکری کامیابی کی تصدیق بھی کی۔ رپورٹ میں اس امر پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ پاکستان نے محدود وسائل کے باوجود جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال، پیشہ ورانہ عسکری منصوبہ بندی اور زمینی حقائق کے مطابق حکمت عملی اپنا کر دشمن کے جارحانہ عزائم کو ناکام بنایا۔
دوسری جانب بھارت نے اپنی شرمندگی کو چھپانے کیلئے پاکستان پر چینی ٹیکنالوجی کے استعمال کا بے بنیاد پروپیگنڈا شروع کیا، حالانکہ کمیشن کی رپورٹ میں کہیں بھی پاکستان کی جانب سے کسی خلاف ضابطہ معاونت کا اشارہ نہیں دیا گیا۔ رپورٹ کے مندرجات کے مطابق بھارتی فوج کی کارکردگی نہ صرف متزلزل رہی بلکہ اس کے دعوے بھی تضادات سے بھرپور تھے، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عالمی سطح پر بھارت کے خود ساختہ بیانیے کی حیثیت ایک مرتبہ پھر ختم ہوگئی۔ اس پورے معاملے میں ’’ٹی آر ٹی‘‘ سمیت عالمی میڈیا کے کئی معتبر ذرائع نے اس حقیقت کی مسلسل نشاندہی کی کہ پاکستان نے نہ صرف جنگی میدان میں واضح سبقت حاصل کی بلکہ دشمن کی پیش قدمی روکتے ہوئے اسے پیچھے دھکیل دیا، جس سے بھارت کی عسکری حکمت عملی کی کمزوریاں کھل کر سامنے آگئیں۔ مزید برآں، بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت کو بین الاقوامی سطح پر جس طرح شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ غلط بیانی اور پروپیگنڈا وقتی طور پر عوام کو گمراہ تو کر سکتا ہے لیکن حقیقی حقائق کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مواقع پر ’’معرکۂ حق‘‘ کے دوران پاکستان کی کامیابی اور بھارتی طیاروں کے مار گرائے جانے کے اعترافات کرچکے ہیں، جس کے باعث بھارتی بیانیے کی ساکھ مزید کمزور ہوگئی۔
معرکۂ حق کو عالمی ماہرین دفاع اس تناظر میں دیکھ رہے ہیں کہ اس چھوٹی مگر فیصلہ کن جھڑپ نے خطے میں طاقت کے توازن کے بارے میں کئی غلط فہمیاں دور کیں اور یہ ثابت کردیا کہ پیشہ ورانہ تیاری، مربوط حکمت عملی اور ٹیکنالوجی کے موزوں استعمال کے ذریعے بہتر عسکری صلاحیت رکھنے والی فورس بھی اپنے سے بڑے اور زیادہ وسائل رکھنے والے دشمن کو جواب دے سکتی ہے۔ کمیشن کی اس رپورٹ نے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے کہ پاکستان کا موقف زمینی حقائق سے ہم آہنگ ہے جبکہ بھارت کا پروپیگنڈا محض نفسیاتی برتری قائم رکھنے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں۔ دفاعی حلقوں کے مطابق بھارتی حکومت کا یہ طرز عمل کوئی نیا نہیں، کیونکہ پہلے بھی متعدد مرتبہ جھوٹے دعوے اور فرضی کامیابیاں نئی دہلی کی پالیسی کا حصہ رہ چکی ہیں، مگر اس بار امریکی ادارے کی جانب سے باقاعدہ دستاویزی اعتراف بھارت کیلئے شدید سبکی کا باعث بن گیا ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کے مؤقف کو مزید تقویت ملتی ہے کہ بھارت خطے میں بداعتمادی، غلط معلومات اور کشیدگی بڑھانے میں مسلسل کردار ادا کرتا آیا ہے جبکہ پاکستان کی عسکری اور سفارتی قیادت ہمیشہ حقائق پر مبنی بیانیہ پیش کرتی رہی ہے، جسے عالمی برادری میں سنجیدگی سے سنا بھی جاتا ہے۔