سہیل آفریدی کے مبینہ دھمکی آمیز بیان پر الیکشن کمیشن کا بڑا اقدام، نوٹس جاری
یوتھ ویژن نیوز: (امجد محمود بھٹی سے) اسلام آباد میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے مبینہ دھمکی آمیز بیان کے معاملے پر بڑا فیصلہ کرتے ہوئے انہیں نوٹس جاری کر دیا ہے، جس کے بعد ضمنی انتخابات کے ماحول میں نئی کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔
الیکشن کمیشن کا ہنگامی اجلاس چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں ہونے والے اہم اجلاس میں اراکینِ کمیشن، سیکرٹری، اسپیشل سیکرٹری، لا وِنگ اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی جہاں سہیل آفریدی کے حالیہ بیان کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور اس کے انتخابی نظام پر اثرات پر غور کیا گیا۔ ضلعی انتظامیہ اور الیکشن عملے کو دھمکی کا الزام الیکشن کمیشن کے مطابق وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے اپنے جلسے میں ضلعی انتظامیہ، پولیس اور الیکشن ڈیوٹی پر مامور عملے کو دھمکی دی جبکہ عوام کو اکسانے اور انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے کی کوشش بھی کی، جسے کمیشن نے قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔
مزید پڑھیں : وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج! ریاستی اداروں کیخلاف نفرت انگیز مواد پھیلانے کا الزام
ذاتی حیثیت میں طلبی کا حکم الیکشن کمیشن نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو کل ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا نوٹس جاری کیا ہے تاکہ ان سے بیان کی وضاحت طلب کی جا سکے اور قانونی کارروائی کا اگلا مرحلہ طے کیا جا سکے۔ جلسے میں مفرور مجرم کی موجودگی کا انکشاف الیکشن کمیشن کے اعلامیے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ جلسے میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے ہمراہ ایک مفرور مجرم بھی کھڑا تھا، جس سے نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہوئی بلکہ امن عامہ کے لیے بھی تشویش میں اضافہ ہوا، جبکہ کمیشن کے مطابق وزیر اعلیٰ کے غیر ذمہ دارانہ بیان نے ضمنی انتخابات کے پرامن انعقاد کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
انتخابی عملے اور ووٹرز کی جان کو خطرہ الیکشن کمیشن نے کہا کہ اس بیان کے بعد ضلعی انتظامیہ، پولیس، انتخابی ڈیوٹی پر تعینات افسران اور ووٹرز کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہوا ہے اور ایسے بیانات انتخابی عمل کو غیر محفوظ بنانے کا باعث بنتے ہیں۔ اعلیٰ سطحی اجلاس کی ہدایت صورتحال کے پیش نظر الیکشن کمیشن نے صوبائی الیکشن کمشنر کو چیف سیکرٹری اور آئی جی کے ساتھ ہنگامی اجلاس بلانے کا حکم دیا ہے تاکہ امن و امان اور انتخابی سیکیورٹی کے حوالے سے فوری اقدامات کیے جا سکیں۔ معاملے کا پس منظر واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے مبینہ دھاندلی کے الزامات کے تناظر میں ایک عوامی جلسے کے دوران سرکاری ملازمین اور انتظامی افسران کو دھمکیاں دی تھیں، جس پر سیاسی حلقوں، قانونی ماہرین اور الیکشن کمیشن کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ ایسے بیانات انتخابی ضابطہ اخلاق کی صریح خلاف ورزی ہیں اور ان کے باعث نہ صرف شفافیت متاثر ہوتی ہے بلکہ الیکشن کے دوران خوف اور بے یقینی کا ماحول بھی پیدا ہوتا ہے، جبکہ کمیشن نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی صوبے کا وزیر اعلیٰ یا عوامی عہدے پر تعینات فرد انتخابی عمل کو دباؤ میں لانے کی کوشش کرے تو اسے قانون کے مطابق جوابدہ ہونا پڑے گا۔