وزیراعظم کی 27ویں ترمیم کے لیے پیپلز پارٹی سے حمایت کی درخواست، شازیہ مری کا دوٹوک مؤقف سامنے آگیا!

“وزیراعظم شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری اسلام آباد میں ملاقات کے دوران 27ویں آئینی ترمیم پر گفتگو کرتے ہوئے”

یوتھ ویژن نیوز:( ندیم چشتی سے) وزیراعظم شہباز شریف نے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی سے حمایت کی درخواست کی ہے، تاہم پیپلز پارٹی نے اپنے مؤقف میں واضح کر دیا ہے کہ صوبائی خودمختاری اور 18ویں آئینی ترمیم کے بنیادی ڈھانچے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے بلاول بھٹو زرداری سے اہم ملاقات میں آئینی ترمیم سے متعلق حکومتی مؤقف تفصیل سے بیان کیا اور قومی اتفاقِ رائے کے لیے تعاون کی اپیل کی۔ ملاقات میں وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات کے توازن، پارلیمانی ہم آہنگی اور قومی اداروں کے کردار سے متعلق نکات پر بات چیت ہوئی۔ اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم کو بتایا کہ پیپلز پارٹی کسی بھی آئینی تبدیلی پر فوری فیصلہ نہیں کرے گی بلکہ معاملے کو پارٹی کے اعلیٰ فورم، سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی)، میں زیرِ بحث لایا جائے گا۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی ترجمان شازیہ مری نے کہا کہ پارٹی کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ صوبوں کے آئینی حقوق اور 18ویں ترمیم میں درج اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ “پیپلز پارٹی نے ہمیشہ وفاق کی مضبوطی اور صوبوں کی خودمختاری کے درمیان توازن کی بات کی ہے۔ این ایف سی ایوارڈ اور 18ویں ترمیم ہماری جدوجہد کا نتیجہ ہیں، جنہیں کسی صورت کمزور نہیں ہونے دیا جائے گا۔” شازیہ مری نے کہا کہ وزیراعظم کی تجویز کا احترام کرتے ہیں، لیکن پارٹی کی پالیسی یہی ہے کہ ہر بڑا آئینی فیصلہ اجتماعی غور و فکر کے بعد ہی کیا جائے گا۔

مزید یہ بھی پڑھیں: وزیر واعظم شہباز شریف کا اسپیکرایاز صادق کو 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے اہم ٹاسک سونپنے کا فیصلہ

ان کے مطابق پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور شریک چیئرمین آصف علی زرداری اس حوالے سے پارٹی کے سینئر رہنماؤں سے مشاورت کریں گے۔ پیپلز پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سی ای سی کا اجلاس جلد طلب کیا جائے گا جس میں 27ویں آئینی ترمیم کے مسودے پر تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ ترجمان نے واضح کیا کہ پارٹی وفاقی نظام کو کمزور کرنے یا صوبوں کے وسائل میں مداخلت کے کسی بھی اقدام کی مزاحمت کرے گی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق وزیراعظم کی جانب سے پیپلز پارٹی سے براہِ راست رابطہ اس بات کا اشارہ ہے کہ حکومت ترمیم کے معاملے پر اتفاقِ رائے کے بغیر آگے نہیں بڑھنا چاہتی۔ آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ 27ویں ترمیم سے متعلق مسودے کے کچھ نکات ایسے ہیں جنہیں صوبائی خودمختاری کے تناظر میں حساس سمجھا جا رہا ہے، اسی لیے پیپلز پارٹی کی حمایت حکومت کے لیے فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے پیپلز پارٹی کو یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ آئینی ترمیم کا مقصد صوبوں کے اختیارات میں کمی نہیں بلکہ ادارہ جاتی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔

دوسری جانب اپوزیشن کے دیگر رہنماؤں نے بھی اس پیش رفت پر محتاط ردعمل دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر پیپلز پارٹی نے اپنی حمایت مشروط کر دی تو حکومت کو سینیٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ تاہم حکومتی ذرائع پُرامید ہیں کہ آئندہ چند روز میں بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان دوبارہ ملاقات متوقع ہے، جس کے بعد حتمی لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ شازیہ مری نے آخر میں کہا کہ پیپلز پارٹی جمہوری اصولوں اور صوبائی خودمختاری کی محافظ ہے، کسی بھی ترمیم کی حمایت انہی اصولوں کے تابع ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں