افغان علاقوں سے حملے پاکستان کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہیں‘ صدر آصف علی زرداری کا سخت ردِعمل اور افغان حکومت کو خبردار

افغان علاقوں سے حملے پاکستان کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہیں، صدر آصف علی زرداری کا سخت ردِعمل اور افغان حکومت کو خبردار
محمد عاقب قریشی

صدرِ مملکت نے افغان سرزمین سے سرحد پار حملوں کی مذمت کی اور مسلح افواج کی پیشہ ورانہ قابلیت کو سراہا۔

یوتھ ویژن نیوز : ( خصوصی رپورٹ برائے محمد عاقب قریشی سے) اسلام آباد: صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے افغان علاقوں سے سرحد پار ہونے والے حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملے پاکستان کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور انہیں برداشت نہیں کیا جائے گا۔

صدر نے اپنی بیان بازی میں مسلح افواج کی جرات، پیشہ وارانہ مہارت اور سرحدی دفاع کی حکمتِ عملی کو خراجِ تحسین پیش کیا اور واضح کیا کہ پاک فوج نے اسپن بولدک اور کرم سیکٹر میں بروقت اور مؤثر کارروائی کے ذریعے ان حملوں کو پسپا کر دیا ہے؛ اُنھوں نے مزید کہا کہ افغان طالبان حکام بین الاقوامی معاہدوں، بشمول دوحہ معاہدے، کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور دہشتگردوں کو محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے کی ذمہ داری قبول نہیں کرتے۔

مزید پڑھیں : چمن میں بڑا تصادم! پاک فوج نے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کا حملہ ناکام بنا کر درجنوں دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا

صدرِ مملکت نے اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی کہ ایسے اقدامات نہ صرف پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں بلکہ پورے خطے کی استحکام اور باہمی اعتماد کو بھی کمزور کرتے ہیں، اس تناظر میں صدر نے افغان حکام سے مطالبہ کیا کہ اپنی سرزمین کو دہشت گردی اور پاکستان مخالف سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیں اور مشترکہ مفاد میں فوری اور ٹھوس اقدامات کریں جو سرحد پار تشدد کے امکانات کو ختم کریں؛ صدر نے یہ بات بھی زور دے کر کہی کہ پاکستان ہمیشہ اپنے تمام پڑوسیوں کے ساتھ پرامن اور تعاون پر مبنی تعلقات کا خواہاں رہا ہے اور سفارتکاری، مذاکرات اور علاقائی تعاون کے ذریعے تنازعات کو حل کرنا ترجیح دیتا ہے۔

مزید پڑھیں : چمن سیکٹر میں افغان طالبان کی جارحیت ناکام، پاک فوج کے مؤثر جوابی وار کے بعد کابل نے جنگ بندی کی درخواست کر دی

تاہم اگر سرحدوں کی خلاف ورزی جاری رہی تو پاکستان اپنی خودمختاری کے دفاع میں ہر ممکن مؤثر اور دوٹوک اقدام کرنے پر یقین رکھتا ہے اور اس کا جواب بھرپور اور متناسب ہوگا، صدارت کے بیان میں یہ بھی شامل ہے کہ حکومت معاملے کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کے ساتھ علاقائی سطح پر بھی اپنی احتجاجی سفارتی کارروائیاں تیز کرے گی تاکہ عالمی برادری کو اس خطرے سے آگاہ کیا جاسکے جس کا سامنا خطے کو غیر محفوظ پناہ گاہوں کی وجہ سے ہے؛ دفاعی حکام اور سکیورٹی کمیٹی کی جانب سے صدر کو تفصیلی معلومات فراہم کی گئی ہیں جن میں موجودہ کارروائیوں کی عملی کامیابیاں، پاک افواج کی پیش قدمی اور سرحدی حدود میں کنٹرول برقرار رکھنے کی حکمتِ عملی شامل ہے۔

صدر نے عسکری قیادت کے ساتھ مل کر ان واقعات کے فوری پس منظر، ممکنہ ردِ عمل اور طویل المدتی دفاعی حکمت عملی کا جائزہ لینے کی ہدایت بھی کی ہے، ان بیانات نے سیاسی اور دفاعی حلقوں میں ایک واضح موقف کی عکاسی کی ہے کہ پاکستان اپنے سرحدی تحفظ اور ملکی خودمختاری کے معاملے میں کسی سمجھوتے کے قابل نہیں، صدرِ مملکت نے اس موقع پر علاقائی استحکام کے لیے تمام فریقین کو تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی اپیل بھی کی اور کہا کہ مسائل کا حل محض عسکری طریقوں تک محدود نہیں بلکہ باہمی اعتماد کی بحالی، اطلاعاتی تبادلے اور سرحدی انتظام کے بہتر نظام کے قیام سے ممکن ہے، آخر میں صدر نے اس بات کو دہراتے ہوئے کہا کہ پاکستان امن چاہتا ہے مگر اپنے دفاع کا حق ہر حال میں رکھتا ہے اور جو بھی طاقتیں ملکی سرحدوں کی خلاف ورزی کریں گی اُن کے خلاف مضبوط اور فیصلہ کن اقدامات کیے جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں