پشاور ہائیکورٹ کا بڑا حکم! وزیراعلیٰ وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا کے حلف میں تاخیر پر گورنر طلب
پشاور ہائی کورٹ نے خیبر پختونخوا کے نومنتخب وزیراعلیٰ سے حلف نہ لیے جانے پر گورنر کی دستیابی معلوم کرنے کا حکم دے دیا، جے یو آئی نے انتخاب چیلنج کر دیا۔
یوتھ ویژن نیوز : (سدرہ بی بی سے) خیبر پختونخوا میں آئینی و سیاسی سرگرمیاں تیزی اختیار کر گئی ہیں۔ پشاور ہائی کورٹ نے صوبے کے نومنتخب وزیراعلیٰ سے حلف نہ لیے جانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا کی دستیابی معلوم کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ حلف برداری میں بلاجواز تاخیر آئینی عمل میں رکاوٹ کے مترادف ہے اور اسے ہر صورت دور کیا جانا چاہیے۔
تفصیلات کے مطابق، عدالت نے نومنتخب وزیراعلیٰ کے حلف میں تاخیر سے متعلق دائر درخواست پر گزشتہ سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کیا۔ فیصلے میں عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو ہدایت دی کہ وہ گورنر کی دستیابی کے بارے میں معلومات حاصل کر کے آج دوپہر ایک بجے تک عدالت کو آگاہ کریں تاکہ حلف برداری کے عمل میں تعطل کی وجوہات سامنے آ سکیں۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کے محمد سہیل آفریدی 90 ووٹ لے کر نئے وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا منتخب
تحریری فیصلے کے مطابق، یہ درخواست صوبائی اسمبلی کے اسپیکر اور اراکینِ اسمبلی کی جانب سے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 255 کے تحت دائر کی گئی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ اگر گورنر کسی وجہ سے حلف لینے سے قاصر ہیں تو اسپیکر یا کسی اور مناسب شخصیت کو یہ ذمہ داری سونپی جا سکتی ہے۔
درخواست گزاروں نے عدالت کو بتایا کہ نومنتخب وزیراعلیٰ کے حلف میں بلاوجہ تاخیر کی جا رہی ہے، جس سے آئینی عمل میں خلل پیدا ہو رہا ہے اور صوبائی حکومت کے قیام میں غیر یقینی صورتحال جنم لے رہی ہے۔ ان کے مطابق، گورنر کا منصب آئین کی پاسداری کا تقاضا کرتا ہے، لہٰذا حلف برداری کے عمل کو غیر ضروری طور پر مؤخر نہیں کیا جا سکتا۔
پشاور ہائی کورٹ نے فریقین کو ہدایت دی ہے کہ وہ گورنر کی موجودگی، دستیابی اور آئینی تقاضوں سے متعلق مکمل رپورٹ جمع کرائیں تاکہ عدالت اس معاملے میں حتمی حکم جاری کر سکے۔ عدالت نے واضح کیا کہ حلف کا عمل محض رسمی نہیں بلکہ یہ آئینی ضرورت ہے، اور اس میں تاخیر حکومت سازی کے عمل کو متاثر کر سکتی ہے۔
ادھر، سیاسی محاذ پر ایک نیا تنازعہ بھی سامنے آ گیا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) نے نئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے انتخاب کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔ جے یو آئی کے پارلیمانی لیڈر لطف الرحمن کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ “سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ تاحال منظور نہیں ہوا، لہٰذا نئے وزیراعلیٰ کا انتخاب غیر قانونی ہے۔”
درخواست میں مزید مؤقف اپنایا گیا کہ گورنر خیبر پختونخوا نے مستعفی ہونے والے وزیراعلیٰ کو 15 اکتوبر کو ذاتی طور پر پیش ہونے کی ہدایت دی ہے تاکہ استعفے کی تصدیق ہو سکے۔ جب تک استعفا باضابطہ طور پر منظور نہیں ہوتا، کسی نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کا عمل آئینی لحاظ سے درست نہیں۔
درخواست جے یو آئی کے وکیل بیرسٹر یاسین رضا کے ذریعے دائر کی گئی، جس میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کو غیر مؤثر اور غیر قانونی قرار دیا جائے۔
دوسری جانب، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لطف الرحمن نے کہا کہ “نومنتخب وزیراعلیٰ کا انتخاب جلدبازی میں اور آئینی تقاضوں کو نظر انداز کر کے کیا گیا۔ جب گورنر نے ابھی تک پچھلے وزیراعلیٰ کا استعفا منظور ہی نہیں کیا، تو نیا وزیر اعلیٰ کیسے منتخب ہو سکتا ہے؟”
انہوں نے مزید کہا کہ “ہم نے اسپیکر کے کہنے پر کاغذاتِ نامزدگی تو جمع کرائے، مگر اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔ گورنر کے خط سے ہی ہمیں معلوم ہوا کہ علی امین گنڈاپور کا استعفا اب تک منظور نہیں ہوا۔ یہ عمل صوبے میں آئینی ابہام پیدا کر رہا ہے۔”
سیاسی ماہرین کے مطابق، خیبر پختونخوا میں یہ صورتحال ایک آئینی بحران کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ اگر گورنر نے بروقت حلف نہ لیا یا استعفے کے معاملے پر ابہام برقرار رہا، تو صوبے میں دو متوازی قانونی مؤقف سامنے آ سکتے ہیں، جس سے انتظامی نظام مزید سست روی کا شکار ہو سکتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ عدالت کی ہدایت کے بعد صوبائی سیکرٹریٹ اور گورنر ہاؤس کے درمیان رابطے تیز کر دیے گئے ہیں تاکہ گورنر کی دستیابی سے متعلق معلومات عدالت کو دی جا سکیں۔ متوقع ہے کہ عدالت آئندہ سماعت میں حلف برداری کے عمل سے متعلق واضح رہنمائی فراہم کرے گی۔
دریں اثناء، اپوزیشن جماعتوں نے الزام لگایا ہے کہ حکومت حلف برداری میں تاخیر کر کے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گورنر آئین کے پابند ہیں اور ان کا کردار غیر جانبدار ہونا چاہیے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ محض قانونی نہیں بلکہ سیاسی بھی ہے، کیونکہ خیبر پختونخوا میں حکومت سازی کے عمل کے ساتھ ساتھ مرکز کے ساتھ اختیارات کی کشمکش بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔