پی ٹی آئی کا بڑا فیصلہ: علی امین گنڈاپور مستعفی، سہیل آفریدی نئے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا نامزد

پی ٹی آئی کا بڑا فیصلہ: علی امین گنڈاپور مستعفی، سہیل آفریدی نئے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا نامزد

پی ٹی آئی نے علی امین گنڈاپور کو ہٹاتے ہوئے سہیل آفریدی کو نیا وزیراعلیٰ نامزد کر دیا۔ عمران خان کے فیصلے سے خیبرپختونخوا کی سیاست میں نئی ہلچل!

یوتھ ویژن نیوز : (شہزاد چوہدری سے) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے خیبرپختونخوا کی سیاست میں ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو ہٹانے اور سہیل آفریدی کو نیا صوبائی وزیراعلیٰ نامزد کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ عمران خان کی ہدایت پر کیا گیا، تاکہ صوبائی حکومت کو نئی توانائی اور سمت دی جا سکے۔

اڈیالہ جیل میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے بعد سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے میڈیا سے گفتگو میں تصدیق کی کہ علی امین گنڈاپور اب وزیراعلیٰ نہیں رہے اور ان کی جگہ سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ کے عہدے کے لیے امیدوار نامزد کیا گیا ہے۔ یہ خبر سامنے آتے ہی نہ صرف سوشل میڈیا پر ہلچل مچ گئی بلکہ خیبرپختونخوا کی سیاسی فضا میں بھی ہلچل دیکھنے میں آئی۔

سلمان اکرم راجہ کے مطابق پارٹی کا یہ فیصلہ باہمی مشاورت کے بعد کیا گیا۔ ان کے بقول، “پارٹی کو اب ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو صوبے میں گڈ گورننس، شفافیت اور ترقی کے نئے باب کھول سکے۔ سہیل آفریدی ایک متحرک اور عوامی رہنما ہیں جو عمران خان کے وژن پر مکمل عملدرآمد کا عزم رکھتے ہیں۔”

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے استعفے کا اعلان کر دیا

دوسری جانب علی امین گنڈاپور نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ "وزیراعلیٰ کی کرسی عمران خان کی امانت تھی، اور میں نے وہ امانت ان کو واپس کر دی ہے۔ عمران خان کے حکم پر اپنا استعفیٰ گورنر کو پیش کروں گا۔” ان کے اس بیان کو سیاسی مبصرین ایک “باوقار الوداعی نوٹ” قرار دے رہے ہیں۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے میڈیا کو بتایا کہ علی امین جمعرات کو پشاور جا کر باضابطہ طور پر گورنر کو استعفیٰ پیش کریں گے۔ ان کے بقول، “یہ تبدیلی کسی اختلاف کی وجہ سے نہیں بلکہ پارٹی کی تنظیم نو اور سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔”

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی کے لیے یہ منصب کسی پھولوں کی سیج سے کم نہیں ہوگا۔ انہیں نہ صرف اتحادی جماعتوں کے ساتھ تعلقات کو متوازن رکھنا ہوگا بلکہ صوبے کے عوامی مسائل — خصوصاً روزگار، امن و امان اور ترقیاتی منصوبوں — کو بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہوگا۔

خیبرپختونخوا میں حکومت چلانا ہمیشہ سے ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔ تاہم سہیل آفریدی کو عمران خان کا براہِ راست اعتماد حاصل ہے، جو انہیں مضبوط سیاسی پشت پناہی فراہم کرتا ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ نئے وزیراعلیٰ عوامی رابطے بڑھانے، بلدیاتی اداروں کو فعال کرنے اور سرمایہ کاری کے نئے منصوبے لانے پر خصوصی توجہ دیں گے۔

سیاسی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں بھی زور پکڑ رہی ہیں کہ علی امین گنڈاپور کو پارٹی میں ایک نئے کردار کے ساتھ دوبارہ سامنے لایا جائے گا — ممکنہ طور پر مرکزی سطح پر تنظیمی ذمہ داری۔

ماہرین کے مطابق، پی ٹی آئی کا یہ فیصلہ ایک ری سیٹ بٹن کی طرح ہے — جس کے ذریعے پارٹی اپنی حکومت کو زیادہ فعال، جوابدہ اور عوام دوست بنانا چاہتی ہے۔ سہیل آفریدی کے لیے یہ پہلا بڑا امتحان ہوگا کہ وہ صوبے میں استحکام برقرار رکھتے ہوئے ترقیاتی ویژن پر کیسے عمل کرتے ہیں۔

آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ خیبرپختونخوا کی سیاست میں اب ایک نیا باب کھل چکا ہے۔ سہیل آفریدی کی وزارت اعلیٰ وہ میدان ہے جہاں کارکردگی، شفافیت اور عوامی خدمت ہی اصل کامیابی کا پیمانہ ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں