وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ گورنر ہاؤس کو موصول، ترجمان نے تصدیق کر دی
گورنر ہاؤس نے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ موصول ہونے کی تصدیق کر دی، آئینی جانچ پڑتال جاری۔ صوبے میں سیاسی ہلچل مچ گئی
یوتھ ویژن نیوز : (عمر اسحاق چشتی سے) ترجمان گورنر ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ باضابطہ طور پر گورنر ہاؤس پشاور کو موصول ہو گیا ہے۔
یہ پیش رفت سیاسی حلقوں میں زبردست ہلچل کا باعث بن گئی ہے۔ترجمان گورنر ہاؤس کے مطابق آج دوپہر 2 بج کر 30 منٹ پر علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ موصول ہوا۔
انہوں نے کہا کہ “گورنر ہاؤس تمام آئینی و قانونی تقاضوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے استعفیٰ کا جائزہ لے رہا ہے۔”
ترجمان کے مطابق معاملہ شفافیت کے ساتھ آگے بڑھایا جائے گا اور استعفیٰ کی تصدیق کے بعد آئینی عمل شروع کر دیا جائے گا۔
مزید پڑھیں : وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے استعفے کا اعلان کر دیا
ذرائع کے مطابق علی امین گنڈاپور کا ہاتھ سے تحریر کردہ استعفیٰ گورنر ہاؤس پہنچایا گیا، جسے ان کے معاونِ خصوصی برائے انسدادِ بدعنوانی مصدق عباسی لے کر گئے۔
استعفیٰ موصول کرنے کے بعد گورنر ہاؤس کے کیئرٹیکر نے باقاعدہ رسید جاری کر دی ہے۔
یہ استعفیٰ ایسے وقت میں آیا ہے جب خیبر پختونخوا میں وزایر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی تبدیلی پر سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی قیادت نے چند روز قبل سہیل آفریدی کو نیا وزیرِ اعلیٰ نامزد کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جب کہ علی امین گنڈاپور نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہدایت پر استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا تھا۔
علی امین گنڈاپور نے چند روز قبل سوشل میڈیا پر اپنے استعفے کی کاپی شیئر کی تھی اور لکھا تھا کہ:
”عمران خان کے حکم کی تعمیل میرے لیے اعزاز ہے۔ میں نے خیبر پختونخوا کے عوام کی خدمت دیانتداری سے کی۔ پاکستان زندہ باد، پی ٹی آئی پائندہ باد۔“
علی امین گنڈاپور نے اپنی پوسٹ میں مزید کہا تھا کہ اپنی مدت کے دوران صوبے کو مالی استحکام کی راہ پر گامزن کیا، دہشت گردی کے چیلنج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، اور بڑے ترقیاتی منصوبے شروع کیے۔
انہوں نے اپنی کابینہ، اراکینِ اسمبلی اور بیوروکریسی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا تھا کہ “میرے لیے عوام کی خدمت سب سے بڑا اعزاز رہا۔”
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ محض ایک سیاسی فیصلہ نہیں بلکہ طاقت کے نئے توازن کی علامت ہے۔
یہ اقدام خیبر پختونخوا کی سیاست میں نئی صف بندیوں کا آغاز کر سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ گورنر نے ابھی استعفیٰ منظور کرنے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا، اس لیے قانونی پہلوؤں پر غور کیا جا رہا ہے۔
اگر گورنر استعفیٰ منظور کر لیتے ہیں تو صوبے میں نئی حکومت کی تشکیل کا عمل فوراً شروع ہو جائے گا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی کی قیادت نے سہیل آفریدی کو نیا وزیرِ اعلیٰ نامزد کر کے اپنے داخلی اختلافات ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔
تاہم اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے نئے وزیرِ اعلیٰ کے انتخاب پر بھرپور جوابی حکمتِ عملی تیار کی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اپوزیشن جماعتوں نے ن لیگ، پیپلز پارٹی، جے یو آئی (ف) اور اے این پی کے مشترکہ اجلاس میں فیصلہ کیا ہے کہ اگر گورنر استعفیٰ منظور کرتے ہیں، تو وہ اپنا متفقہ امیدوار میدان میں اتاریں گے۔
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر گورنر نے استعفیٰ منظور کرنے میں تاخیر کی تو آئینی ابہام پیدا ہو سکتا ہے، کیونکہ آرٹیکل 130 کی شق 8 کے تحت وزیرِ اعلیٰ کا استعفیٰ صرف گورنر کو بھیجنا لازمی ہے — گورنر کی منظوری آئینی شرط نہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ دنوں پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم نے بھی اسی آئینی نکتے پر قیادت کو بریفنگ دی تھی اور مؤقف اپنایا تھا کہ “اگر وزیرِ اعلیٰ تحریری اور زبانی دونوں انداز میں استعفیٰ دے دے تو وہ ازخود منظور تصور ہوتا ہے۔”
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ علی امین گنڈاپور کے استعفے کے بعد خیبر پختونخوا کی سیاسی بساط پر نیا کھیل شروع ہو گیا ہے۔
ایک طرف پی ٹی آئی قیادت سہیل آفریدی کو وزارتِ اعلیٰ دلوانے کے لیے سرگرم ہے، دوسری جانب اپوزیشن نے بھی نیا سیاسی محاذ کھولنے کی تیاری کر لی ہے۔
عوامی سطح پر علی امین گنڈاپور کے استعفے پر ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔
ان کے حامیوں نے سوشل میڈیا پر انہیں “نڈر اور وفادار سپاہی” قرار دیا، جب کہ مخالفین کا کہنا ہے کہ “یہ استعفیٰ دراصل پارٹی کے اندرونی دباؤ کا نتیجہ ہے۔”
سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ آنے والے چند دن خیبر پختونخوا کے سیاسی مستقبل کا تعین کریں گے۔
اگر گورنر نے استعفیٰ فوری منظور کر لیا، تو سہیل آفریدی کا حلف اگلے 48 گھنٹوں میں متوقع ہے۔