صدر ٹرمپ کا اسرائیل کا دورہ متوقع، کنیسٹ سے تاریخی خطاب کی تیاریاں مکمل
صدر ٹرمپ کا اسرائیل کا دورہ متوقع | کنیسٹ سے تاریخی خطاب کی تیاری مکمل
یوتھ ویژن نیوز: (خصوصی رپورٹ شہزاد چوہدری سے) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ ہفتے اسرائیل کے ایک مختصر مگر تاریخی دورے پر پہنچنے والے ہیں، جہاں وہ اسرائیلی پارلیمان کنیسٹ سے خطاب کریں گے۔ اسرائیل کے چینل 12 کے مطابق صدر ٹرمپ کا یہ دورہ باضابطہ پروٹوکول کے بغیر ہوگا، تاہم ان کا استقبال وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو اور اعلیٰ سرکاری حکام کریں گے۔
ذرائع کے مطابق امریکی ایئر فورس ون اتوار کو دوپہر 3 بجے بن گوریون ایئرپورٹ پر اترے گا۔ اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ صدر ٹرمپ کا یہ دورہ غزہ جنگ بندی معاہدے میں ثالثی کے بعد کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں خطے میں تناؤ میں کمی آئی ہے۔
مزید پڑھیں: امن معاہدے کے باوجود اسرائیلی فوج کی غزہ پر بمباری، جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی
امریکی نمائندگان وٹکوف اور جیرڈ کشنر پہلے ہی تل ابیب پہنچ چکے ہیں اور صدر ٹرمپ کے دورے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ٹرمپ اپنے خطاب میں اسرائیل اور عرب ممالک کے تعلقات میں استحکام، اور غزہ امن معاہدے کے بعد خطے کے نئے سیاسی منظرنامے پر گفتگو کریں گے۔
رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کنیسٹ سے خطاب کے فوراً بعد بغیر کسی اضافی ملاقات یا تقریب میں شرکت کیے واپس امریکا روانہ ہو جائیں گے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ دورہ صرف چند گھنٹوں پر مشتمل ہوگا لیکن سفارتی لحاظ سے اسے غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے گزشتہ بدھ کو امن معاہدے سے قبل بیان دیا تھا کہ “اگر معاہدہ طے پا گیا تو میں مشرقِ وسطیٰ کا دورہ ضرور کروں گا۔” انہوں نے مزید کہا تھا کہ “ہم شاید ہفتے یا اتوار کو روانہ ہوں گے۔”
ماہرین کے مطابق ٹرمپ کا یہ دورہ نہ صرف امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات کو نئی جہت دے سکتا ہے بلکہ غزہ میں قیامِ امن کے عمل میں بھی ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔