Xiaomi کے ہومانوئڈ روبوٹ: پانچ سال میں نوکریوں کا منظرنامہ بدلیں گے

Xiaomi کے ہومانوئڈ روبوٹ: پانچ سال میں نوکریوں کا منظرنامہ بدلیں گے


یوتھ ویژن نیوز : ( نمائدہ خصؤصی عفان گوہر سے) مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کی دنیا میں تیز رفتار ترقی کا اثر اب روزمرہ زندگی اور صنعتوں تک پہنچنے لگا ہے۔ Xiaomi کے CEO، لی جون کے مطابق، مستقبل میں ہومانوئڈ روبوٹ انسانی کام انجام دینے لگیں گے اور پانچ سال کے اندر کمپنی اپنے فیکٹریز میں ان روبوٹس کو متعارف کرائے گی۔ یہ اقدام نہ صرف صنعتی عمل کو خودکار بنانے میں مدد کرے گا بلکہ مزدوری کے روایتی نظام کو بھی بدل دے گا۔

Xiaomi کے موجودہ AI سسٹمز میں X-ray اور وژن ماڈلز شامل ہیں، جو بڑی اشیاء کی جانچ صرف دو سیکنڈ میں کر لیتے ہیں۔ یہ رفتار انسانی عمل سے تقریباً دس گنا زیادہ ہے اور درستگی کے لحاظ سے بھی بہتر ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے فیکٹریز میں مصنوعات کی کوالٹی کنٹرول میں انقلاب آئے گا، اور انسانی غلطیوں کے امکانات تقریباً صفر ہو جائیں گے۔

لی جون کے مطابق، مستقبل میں یہ ہومانوئڈ روبوٹ صرف صنعتی شعبے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ گھروں میں بھی داخل ہوں گے۔ یہ روبوٹ روزمرہ کے کام انجام دیں گے، جیسے صفائی، اشیاء کی ترتیب، یا دیگر معمولی مگر وقت طلب کام۔ اس طرح انسانی محنت پر انحصار کم ہوگا اور زندگی آسان اور مؤثر بنے گی۔

یہ تبدیلی نہ صرف وقت کی بچت کرے گی بلکہ اقتصادی ترقی اور مزدور مارکیٹ پر بھی اثر ڈالے گی۔ جیسے جیسے روبوٹ زیادہ خودکار اور ذہین ہوں گے، مزدوری کی ضرورت میں کمی آئے گی، مگر ساتھ ہی نئے شعبے اور مہارتیں بھی ابھریں گی، جن میں AI کی نگرانی، روبوٹک مینٹیننس اور تکنیکی سپورٹ شامل ہیں۔

Xiaomi کے منصوبے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ روبوتکس اور AI مستقبل کی صنعتوں میں بنیادی کردار ادا کریں گے۔ یہ نہ صرف پیداوار بڑھائیں گے بلکہ انسانی محنت کو زیادہ تخلیقی اور حکمت عملی والے کاموں میں منتقل کریں گے۔ ایسے اقدامات دنیا بھر کی کمپنیوں کے لیے بھی ایک مثال قائم کرتے ہیں کہ کس طرح ٹیکنالوجی اور AI کو ملا کر صنعتی اور روزمرہ کاموں کو تیز اور مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔

آخر میں، یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اگلے پانچ سال میں ہومانوئڈ روبوٹ ہماری زندگی کے ہر پہلو میں دخل اندازی کریں گے۔ Xiaomi کا یہ اقدام نہ صرف ٹیکنالوجی کی دنیا میں انقلاب ہے بلکہ یہ انسانی زندگی کے معیار کو بہتر بنانے اور کام کے طریقے بدلنے کا پیش خیمہ بھی ثابت ہوگا۔ AI اور روبوٹکس کی مدد سے مستقبل میں انسانی محنت، درستگی اور وقت کی بچت کا نیا معیار قائم ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں