واٹس ایپ نے صارفین کی پرائیویسی کے لیے ’اسٹرکٹ اکاؤنٹ سیٹنگز‘ فیچر متعارف کروا دیا
یوتھ ویژن نیوز : (عفان گوہر سے) واٹس ایپ نے صارفین کی پرائیویسی اور سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایک نیا فیچر متعارف کروایا ہے جسے کمپنی نے ”اسٹرکٹ اکاؤنٹ سیٹنگز‘‘ کا نام دیا ہے۔ اس نئے فیچر کا مقصد خاص طور پر ایسے صارفین کے لیے ہے جو سائبر حملوں، اسپائی ویئر یا دیگر ڈیجیٹل خطرات کے زیادہ حساس ہیں، جیسے کہ صحافی، عوامی شخصیات اور آن لائن انفلوئنسرز۔
کمپنی کے مطابق جب یہ فیچر فعال کیا جائے گا تو واٹس ایپ خودکار طور پر اکاؤنٹ میں سخت پرائیویسی کنٹرولز نافذ کر دے گا۔ اس کے تحت نامعلوم رابطوں سے بھیجی جانے والی میڈیا فائلز اور اٹیچمنٹس بلاک ہو جائیں گے، جس سے ممکنہ نقصان یا خطرناک مواد سے بچاؤ ممکن ہوگا۔ صارف کا اکاؤنٹ لاک ڈاؤن موڈ میں منتقل ہو جائے گا، جس کے نتیجے میں کچھ فنکشنز محدود ہو جائیں گے، مگر مجموعی طور پر صارف کا تجربہ زیادہ محفوظ اور کنٹرولڈ ہو جائے گا۔
واٹس ایپ کا نیا اقدام: اسپیم پیغامات روکنے کیلئے صارفین پر نئی پابندیاں عائد کرنے کی تیاری
صارفین اس فیچر کو آسانی سے Settings → Privacy → Advanced میں جا کر فعال کر سکتے ہیں۔ واٹس ایپ نے بتایا ہے کہ یہ فیچر مرحلہ وار دنیا بھر کے صارفین کے لیے دستیاب ہوگا، اور آنے والے ہفتوں میں تمام صارفین اسے استعمال کر سکیں گے۔
واٹس ایپ نے اپنی سیکیورٹی انفراسٹرکچر میں بھی بہتری کی ہے۔ کمپنی نے ایپ کے اندر موجود اہم کوڈ کو Rust پروگرامنگ لینگویج میں تبدیل کیا ہے، تاکہ صارفین کے میسجز، تصاویر اور ویڈیوز کو بہتر، محفوظ اور مستحکم طریقے سے ہینڈل کیا جا سکے۔ یہ اقدام صارفین کو ایک محفوظ ڈیجیٹل ماحول فراہم کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
ماہرین کے مطابق، واٹس ایپ کا یہ اقدام ڈیجیٹل دنیا میں بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر انتہائی اہم ہے، کیونکہ صحافی، بلاگرز اور آن لائن انفلوئنسرز اکثر ایسے حملوں کا شکار ہوتے ہیں جو ان کے ذاتی اور پیشہ ورانہ مواد کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ اس نئے فیچر کے ذریعے واٹس ایپ نے صارفین کو زیادہ کنٹرول، تحفظ اور پرائیویسی کے مواقع فراہم کیے ہیں، جو موجودہ ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کے عین مطابق ہیں۔
واٹس ایپ کا کہنا ہے کہ یہ جدید فیچر صارفین کے لیے اختیاری ہے، لیکن فعال کرنے سے اکاؤنٹ کی حفاظت اور پرائیویسی میں نمایاں اضافہ ہوگا، اور آن لائن اسپائیج، میلویئر یا نقصان دہ میڈیا سے بچاؤ ممکن ہو سکے گا۔