جنوبی پنجاب: وسائل سے بھرپور مگر حقوق سے محروم
خصؤصی تحریر : اُمِ ہانی
جنوبی پنجاب پاکستان کا وہ خطہ ہے جسے قدرت نے وسائل، زرخیز زمین اور متنوع جغرافیے سے مالا مال کر رکھا ہے۔ یہاں دریا بھی بہتے ہیں، صحرا بھی پھیلے ہیں، پہاڑ بھی موجود ہیں اور لہلہاتے کھیت بھی۔ کپاس کی بڑی پیداوار کے باعث یہ خطہ ملک کی ٹیکسٹائل صنعت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، جبکہ آم کی پیداوار کے حوالے سے جنوبی پنجاب نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر اپنی پہچان رکھتا ہے۔
یہی نہیں، گندم اور گنے کی وسیع کاشت اسے فوڈ سیکیورٹی کے تناظر میں بھی ایک اہم مقام دیتی ہے۔ اس خطے کی محنت، فصل اور زمین ملک کی معیشت میں حصہ ڈالتی ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس حصے کے تناسب سے یہاں کے شہریوں کو حقوق، سہولیات اور تحفظ بھی مل رہا ہے؟
یہ حقیقت اب کسی تعارف کی محتاج نہیں کہ جنوبی پنجاب ایک طویل عرصے سے الگ صوبے کے مطالبے کے گرد سیاسی وعدوں اور اعلانات کی زد میں رہا ہے۔ انتخابی مہمات میں جنوبی پنجاب کے نام پر بیانیے بنتے رہے، نعرے لگتے رہے، وعدے کیے جاتے رہے، مگر انتخابات کے بعد یہ مطالبہ اکثر پسِ پشت چلا جاتا ہے۔ عوام کے لیے یہ طرزِعمل محض سیاسی حکمتِ عملی نہیں، بلکہ اعتماد کے بحران کی ایک صورت بن چکا ہے۔
جب کسی خطے کے مسائل کو ووٹ کے موسم میں یاد کیا جائے اور عملی فیصلوں کے وقت نظرانداز کر دیا جائے تو محرومی بڑھتی ہے، اور محرومی وقت کے ساتھ سیاسی، معاشی اور سماجی بے چینی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
جنوبی پنجاب کے مسائل ویسے تو متعدد ہیں، مگر کچھ معاملات ایسے ہیں جن پر فوری اور عملی توجہ نہ دی گئی تو نقصان انسانی سطح پر بہت زیادہ ہو سکتا ہے۔ 2022 اور 2025 کے سیلابوں نے جنوبی پنجاب کو شدید متاثر کیا۔ 2025 کی مون سون بارشوں کے بعد کئی خاندان بے گھر ہوئے اور متعدد مقامات پر معمولاتِ زندگی بحال نہ ہو سکے۔
موسمِ سرما نے ان متاثرہ خاندانوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا، کیونکہ بے گھری صرف چھت کے نہ ہونے کا نام نہیں، یہ روزگار، صحت، تعلیم اور تحفظ کے مسلسل عدم استحکام کا دوسرا نام بھی ہے۔ ایسے حالات میں ریاستی ذمہ داری محض امدادی پیکج تک محدود نہیں رہتی، بلکہ شفاف تخمینے، بروقت بحالی، رہائش، تعمیر نو اور کمزور طبقات تک رسائی کو یقینی بنانا بنیادی ضرورت بن جاتا ہے۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کی جانب سے جنوبی پنجاب کے سیلاب متاثرین کیلئے آواز اٹھائی گئی، اور متاثرہ بستیوں کے مسائل کو اجاگر کیا گیا۔ رپورٹ شدہ نکات میں متاثرین کیلئے نقصانات کے شفاف و جامع تخمینوں، فوری بحالی اور تعمیر نو کیلئے معاونت، بے ضابطگی کے ذمہ دار اہلکاروں کا احتساب، اور مزارعین و زرعی مزدوروں کو امدادی و معاوضہ اسکیموں میں شامل کرنے پر زور دیا گیا۔ یہ مطالبات کسی اضافی رعایت کا تقاضا نہیں، بلکہ بنیادی انصاف کی سمت میں وہ اقدامات ہیں جن کے بغیر بحالی کا عمل ادھورا رہتا ہے اور متاثرہ آبادی ایک نئی محرومی کے دائرے میں داخل ہو جاتی ہے۔
جنوبی پنجاب کی زرعی معیشت کا ایک اہم پہلو وہ طبقہ ہے جو کھیتوں میں محنت کرتا ہے مگر فیصلوں میں نظر نہیں آتا۔ مزارعین اور زرعی مزدور اکثر قدرتی آفات میں سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، مگر امدادی نظام میں ان کی شمولیت اور حقیقی نقصان کا ازالہ اکثر واضح نہیں ہوتا۔ اگر بحالی اور معاوضے کی پالیسی میں کمزور طبقات کو مرکزی جگہ نہ دی جائے تو وسائل رکھنے والا خطہ بھی انسانی ترقی کے اشاریوں میں پیچھے رہ جاتا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ امداد، معاوضہ اور بحالی کے تمام مراحل میں شفافیت، نگرانی، اور مقامی سطح پر ذمہ داری کا تعین واضح ہو۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ پنجاب حکومت نے مختلف شعبوں میں گورننس کے دعوے کیے ہیں، مگر جنوبی پنجاب کے مسائل کو اسی سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے جس کے یہ معاملات مستحق ہیں۔ ترقی کے منصوبے، صحت و تعلیم کی بہتری، سڑکوں اور انفرااسٹرکچر کی بحالی، اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی فوری تعمیر نو ایسے اقدامات ہیں جو محض اعلانات سے نہیں، مؤثر عملدرآمد سے ممکن ہوتے ہیں۔ اگر جنوبی پنجاب کے لوگ اپنے بنیادی حقوق اور سول رائٹس کے ساتھ معمول کی زندگی گزار سکیں تو یہ صرف ایک خطے کی بہتری نہیں ہوگی بلکہ قومی استحکام اور یکجہتی کیلئے بھی ایک مضبوط قدم ہوگا۔
وسائل سے بھرپور خطے کو حقوق سے محروم رکھنا نہ معاشی منطق ہے، نہ سیاسی حکمت۔ جنوبی پنجاب کی زمین ملک کی ضروریات پوری کرتی ہے، اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک اور صوبہ اس خطے کی بنیادی ضروریات پوری کریں۔ سیلاب متاثرین کی بحالی کو ترجیح، کمزور طبقے کی شمولیت، احتساب، اور وعدوں کی تکمیل یہی وہ راستہ ہے جو محرومی کے احساس کو کم اور امید کے امکانات کو بڑھا سکتا ہے۔