سینیٹ میں ہنگامہ: عمران خان کی صحت پر اپوزیشن کا احتجاج اور حکومت کا جواب
یوتھ ویژن نیوز : اسلام آباد (پارلیمانی رپورٹر): سینیٹ کا حالیہ اجلاس بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بگڑتی ہوئی صحت اور بینائی کے معاملے پر میدانِ جنگ بن گیا۔ اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے ایوان کی معمول کی کارروائی معطل کرنے کی درخواست کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ مبینہ طبی غفلت کے باعث عمران خان کی ایک آنکھ کی بینائی 85 فیصد ختم ہو چکی ہے، جس کی تمام تر ذمہ داری موجودہ حکومت پر عائد ہوتی ہے۔
اپوزیشن کا موقف اور دھمکی: علامہ راجہ ناصر عباس نے جذباتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "ایک آنکھ ضائع ہونا فقہ میں آدھے انسان کی دیت کے برابر ہے، یہ ایک جرم ہوا ہے جس کی تحقیقات ہونی چاہئیں”۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ اگر معاملات کو اسی طرح چلایا گیا تو احتجاج سڑکوں تک پھیلے گا اور وہ "سینوں پر گولیاں کھانے کو تیار ہیں”۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کا علاج راولپنڈی کے معروف ماہرِ چشم ڈاکٹر عامر یا ڈاکٹر مظہر سہیل سے کرایا جائے۔
مزید پڑھیں : عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی 85 فیصد ختم
حکومت کا دفاع: وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بیرسٹر سلمان صفدر کی رپورٹ کے مطابق عمران خان کو جیل میں تمام ضروری سہولیات میسر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "صحت پر سیاست کرنا بڑا جرم ہے، حکومت بہترین طبی ماہرین تک رسائی دینے کو تیار ہے”۔ انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ اس معاملے کو دیکھ رہی ہے، لہٰذا اسے سیاسی رنگ نہ دیا جائے۔
ایوان میں بدنزمی اور قانون سازی:
اجلاس کے دوران اس وقت شدید بدنزمی پیدا ہوئی جب پی ٹی آئی سینیٹرز نے اپنے ڈیسکوں پر عمران خان کی تصاویر لگائیں، جس پر حکومتی سینیٹر ناصر بٹ نے سخت اعتراض کیا۔ پریذائیڈنگ افسر وقار مہدی نے رولنگ دیتے ہوئے تصاویر ہٹانے کی ہدایت کی۔ ہنگامہ آرائی کے باوجود ایوان نے اہم قانون سازی کرتے ہوئے پاکستان شہریت ایکٹ 1951ء، پیمرا آرڈیننس اور اخباری ملازمین ایکٹ 1973ء میں ترامیم کے بل منظور کر لیے۔ بعدازاں اجلاس کل صبح تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔