سعودی عرب عالمی اے آئی شراکت میں شامل پہلا عرب ملک بن گیا
یوتھ ویژن نیوز : ـ(ٹیک نمائدہ برائے عفان گوہر سے) سعودی عرب نے ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (AI) کے میدان میں ایک اور سنگ میل عبور کرتے ہوئے "مصنوعی ذہانت پر عالمی شراکت” (GPAI) میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ اس اعزاز کے ساتھ سعودی عرب اس معتبر عالمی اتحاد کا حصہ بننے والا پہلا عرب ملک بن گیا ہے۔ یہ اعلان سعودی ڈیٹا اینڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس اتھارٹی (SDAIA) کے صدر ڈاکٹر عبداللہ بن شرف الغامدی نے نئی دہلی میں منعقدہ "انڈیا AI امپیکٹ سمٹ 2026” کے دوران کیا
ذمہ دارانہ اے آئی اور شاہی قیادت کا وژن
سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عبداللہ الغامدی نے کہا کہ GPAI میں شمولیت خادم الحرمین الشریفین اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے اس وژن کی عکاس ہے جو مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ، اخلاقی اور قابل اعتماد استعمال کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کا مقصد ٹیکنالوجی کو انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کرنا ہے اور یہ عالمی شراکت داری اس سمت میں ایک بڑا قدم ہے۔
عالمی درجہ بندی میں سعودی عرب کا نمایاں مقام
سعودی عرب نہ صرف اس اتحاد کا حصہ بنا ہے بلکہ وہ اے آئی پالیسی سازی میں بھی دنیا کے صفِ اول کے ممالک میں شامل ہو چکا ہے۔ اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم (OECD) کی اے آئی پالیسی آبزرویٹری کے مطابق، سعودی عرب عالمی سطح پر تیسرے نمبر پر ہے جس نے بین الاقوامی گورننس اور مصنوعی ذہانت کے ضوابط کے لیے 60 سے زیادہ پالیسیاں اور تجاویز پیش کی ہیں۔ یہ کارکردگی سعودی عرب کو خطے اور دنیا بھر میں اے آئی کا ‘ریگولیٹری لیڈر’ بناتی ہے۔
ریاض چارٹر اور علاقائی ترجیحات
ڈاکٹر الغامدی نے واضح کیا کہ اس اسٹریٹجک شراکت داری کے ذریعے سعودی عرب اے آئی کے خطرات کی نگرانی کا دائرہ کار مشرق وسطیٰ تک پھیلانا چاہتا ہے۔ اس کا مقصد علاقائی ترجیحات کو بین الاقوامی معیارات کے ساتھ ہم آہنگ کرنا اور "اے آئی پر ریاض چارٹر” کو مزید تقویت دینا ہے۔ ریاض چارٹر کا بنیادی مقصد ایسی اخلاقی تکنیکی ترقی کو یقینی بنانا ہے جو انسانی اقدار اور سماجی مفادات کے تحفظ کو ترجیح دے۔
مستقبل کے اثرات
سعودی عرب کی اس عالمی پلیٹ فارم پر موجودگی سے مشرق وسطیٰ میں ٹیکنالوجی کی منتقلی، تحقیق اور ترقی (R&D) کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ سعودی عرب کی شمولیت سے عالمی اے آئی گورننس میں عرب ممالک کا نکتہ نظر بھی شامل ہوگا، جو کہ ایک متوازن عالمی ڈیجیٹل پالیسی کی تشکیل کے لیے انتہائی ضروری ہے