روبینہ خالد کا صحت و تعلیم کے پروگرام صوبوں کو منتقل کرنے پر زور
یوتھ ویژن نیوز : (علی رضا سے) چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام روبینہ خالد کا سندھ سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کا دورہ، صحت و تعلیم کے پروگرام صوبوں کو منتقل کرنے اور ڈیٹا انٹیگریشن پر زور۔
کراچی: چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے کہا ہے کہ وفاق کو حقیقی معنوں میں مضبوط بنانے کے لیے صحت اور تعلیم سے متعلق سماجی تحفظ کے پروگراموں کو صوبوں کے سپرد کرنا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے، کیونکہ ان شعبوں میں براہِ راست نفاذ اور مقامی سطح پر مؤثر نگرانی صرف صوبائی حکومتیں ہی بہتر انداز میں کر سکتی ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے حکومتِ سندھ کے محکمہ سماجی تحفظ کے تحت سندھ سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کے دفتر کے دورے کے موقع پر کیا، جہاں صوبائی وزیر محنت، افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی نے ان کا خیرمقدم کیا جبکہ سندھ سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ارشاد سودھر نے ادارے کی کارکردگی، جاری منصوبوں اور مستقبل کی حکمتِ عملی پر تفصیلی بریفنگ دی۔
سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا بنیادی مالی معاونتی پروگرام وفاقی سطح پر برقرار رہنا چاہیے تاکہ ملک بھر میں مستحق خاندانوں کے لیے یکساں معیار اور شفاف نظام یقینی بنایا جا سکے، تاہم صحت اور تعلیم سے متعلق منصوبے صوبوں کو منتقل کیے جانے چاہئیں تاکہ ان کا نفاذ زیادہ مؤثر، تیز رفتار اور زمینی حقائق سے ہم آہنگ ہو سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ صوبائی سطح پر صحت اور تعلیم کے نظام پہلے سے موجود ہیں، اس لیے ان شعبوں میں سماجی تحفظ کے اقدامات صوبوں کے ذریعے نافذ ہوں تو وسائل کے بہتر استعمال کے ساتھ مستحق افراد تک بروقت سہولتوں کی فراہمی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سندھ حکومت کے ساتھ ڈیٹا انٹیگریشن کے مضبوط اور شفاف نظام کے قیام میں گہری دلچسپی رکھتا ہے تاکہ مستحق افراد کی درست نشاندہی، دوہرے اندراج کے خاتمے اور سماجی تحفظ کے پروگراموں کی مؤثر مانیٹرنگ ممکن ہو سکے۔
”صحت اور تعلیم کے منصوبے صوبوں کے حوالے کرنا وقت کی ضرورت، وفاقی نظام مضبوط ہوگا“سینٹر روبینہ خالد
انہوں نے کہا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان ڈیٹا شیئرنگ اور باہمی تعاون سے نہ صرف شفافیت میں اضافہ ہوگا بلکہ قومی وسائل کے ضیاع کو بھی روکا جا سکے گا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ سندھ حکومت بی آئی ایس پی کے ساتھ وسیع تر تعاون، ڈیٹا شیئرنگ اور مشترکہ معاہدوں پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے، کیونکہ صوبے میں سماجی تحفظ کے پروگراموں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے وفاقی اداروں کے ساتھ مربوط حکمتِ عملی ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ سوشل پروٹیکشن اتھارٹی صوبے میں سماجی بہبود، محنت کشوں، خواتین اور کمزور طبقات کے لیے مختلف پروگراموں پر عملدرآمد کر رہی ہے اور بی آئی ایس پی کے ساتھ تعاون سے ان پروگراموں کی افادیت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے اس امر پر اتفاق کیا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان اشتراکِ عمل کے بغیر سماجی تحفظ کے اہداف حاصل کرنا ممکن نہیں، اس لیے مستقبل میں قریبی رابطے، تکنیکی تعاون اور پالیسی ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے گا تاکہ غریب اور مستحق طبقات کو پائیدار بنیادوں پر سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔