ترجمان پی آئی اے کی جانب سے فضائی صنعت کی ساکھ کے دفاع میں اہم پیغامات

اسلام آباد میں پی آئی اے ہیڈ آفس کے باہر میڈیا نمائندوں کو فضائی آپریشن سے متعلق وضاحت دیتے ہوئے ترجمان پی آئی اے۔

ترجمان پی آئی اے کا گمراہ کن خبروں پر ردعمل سامنےآگیا

یوتھ ویژن نیوز : ( سیف الرحمن سے) قومی ایئرلائن پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کےترجمان پی آئی اے نے فضائی آپریشن اور مینٹیننس سے متعلق حالیہ گمراہ کن خبروں پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد انجینئرنگ سوسائٹی کی جانب سے غلط اعداد و شمار پر مبنی بیانات اور میڈیا پر پھیلائی جانے والی جھوٹی معلومات نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہیں بلکہ ملکی ہوابازی کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی دانستہ کوشش ہے۔

ترجمان پی آئی اے کے مطابق، انتظامیہ نے گزشتہ دو روز سے ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے خاموشی اختیار کی تھی، تاہم سوسائٹی کے بے بنیاد اعلامیے اور اس کی بین الاقوامی سطح پر غیر ضروری تشہیر نے ادارے کے وقار پر حملہ کیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ “ذاتی مفادات کے لیے قومی ہوابازی کے ڈھانچے کو داؤ پر لگانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ عناصر نہ پیشہ ورانہ رویہ رکھتے ہیں اور نہ ہی کسی کے خیر خواہ ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (CAA) ملک میں فضائی حفاظت کا واحد ذمہ دار ادارہ ہے، جو بین الاقوامی ضوابط کے تحت تمام ائیرلائنز بشمول پی آئی اے کو ریگولیٹ کرتا ہے۔

جہازوں کی فٹنس، پرزوں کے استعمال، روٹس، اوقات کار اور پروازوں کی منظوری سمیت تمام مراحل سول ایوی ایشن کی اجازت کے بعد مکمل کیے جاتے ہیں۔ ترجمان نے مزید کہا کہ انہی عالمی ضوابط پر عمل کے نتیجے میں پاکستان نے حال ہی میں یورپ اور برطانیہ کے لیے براہِ راست پروازوں کی بحالی ممکن بنائی ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں : پی آئی اے سے برطانیہ جانے والوں کے لیے خوشخبری

ترجمان کے مطابق، بعض انجینئرز کی خود ساختہ تنظیم چھ ماہ میں دوسری بار تنخواہوں میں اضافے اور نجکاری کے عمل کو روکنے کے لیے جھوٹے بیانیے کو تقویت دے رہی ہے۔ “یہ امر مضحکہ خیز ہے کہ سوسائٹی کے خود ساختہ صدر اور جنرل سیکرٹری پاکستان انجینئرنگ کونسل سے منظور شدہ تعلیمی قابلیت ہی نہیں رکھتے، اور نہ ہی جہازوں پر کام کرنے کے مجاز ہیں۔”

ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ گزشتہ دو روز کے دوران پی آئی اے کی کوئی پرواز انجینئرنگ ہڑتال کے باعث منسوخ نہیں ہوئی۔ جو پروازیں متاثر ہوئیں، وہ معمول کی شیڈولنگ، موسم یا آپریشنل وجوہات کی بنا پر تھیں۔ ترجمان نے وضاحت کی کہ جہاز کی ونڈ اسکرین سے متعلق جو ویڈیو پھیلائی گئی، وہ حقائق کے منافی تھی۔ “ونڈ اسکرین تین پرتوں پر مشتمل ہوتی ہے، صرف اندرونی پرت میں معمولی کریک آیا جس سے پرواز کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوا۔”

انہوں نے کہا کہ اسی نوعیت کے واقعات رواں سال سنگاپور ایئرلائن، امریکن ایئرلائن اور ورجن اٹلانٹک میں بھی پیش آ چکے ہیں، جو ہوابازی کی صنعت میں معمول کا عمل ہے۔ ترجمان نے وضاحت کی کہ ٹیپ کا استعمال صرف کیورنگ (سکھانے) کے عمل کے دوران کیا گیا، مگر کچھ عناصر نے اس عمل کو غلط رنگ دے کر یہ تاثر پھیلایا کہ “ونڈ اسکرین ٹیپ سے جوڑ کر جہاز اُڑائے جا رہے ہیں۔”

پی آئی اے کے مطابق، انتظامیہ نے اب تک کسی انجینئر کے خلاف انتقامی کارروائی نہیں کی، بلکہ ان افراد کو اپنا موقف پیش کرنے کے مواقع فراہم کیے گئے۔ تاہم صدر اور جنرل سیکرٹری کی ملازمت سے برطرفی چار ماہ سے جاری انتظامی کارروائی کا نتیجہ ہے، جس میں ان کی بیان بازی کو دفعہ 124-A کے تحت قابلِ تعزیر جرم قرار دیا گیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ادارہ اپنی قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے اور اگر ضرورت پڑی تو ان عناصر، ان کے محرکات اور جھوٹی خبروں کو پھیلانے والے ذرائع ابلاغ کے خلاف بھی قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں