شہریوں کیلئے بڑی اپ ڈیٹ!قومی شناختی کارڈ میں اہم تبدیلیاں

قومی شناختی کارڈ میں تبدیلیاں، نئے سیکیورٹی فیچرز اور تصدیقی نظام کی اپ ڈیٹ

یوتھ ویژن نیوز : (محمد عباس سے) قومی شناختی کارڈ میں تبدیلیاں کر دی گئیں، سیکیورٹی فیچر اپ ڈیٹ، فنگر پرنٹس و آئرس اسکین قواعد میں شامل، کیو آر کوڈ سے آف لائن و آن لائن فوری تصدیق ممکن ہوگی۔

اسلام آباد: شہریوں کے لیے قومی شناختی کارڈ کے نظام میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں حکومت نے قومی شناختی کارڈ کے سیکیورٹی فیچرز میں تبدیلی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق شناختی کارڈ کی تصدیق اور توثیق کے طریقۂ کار میں بھی نمایاں تبدیلیوں کی منظوری دی گئی ہے، جس کا مقصد شناختی نظام کو مزید محفوظ، قابلِ اعتماد اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا ہے۔

ذرائع کے مطابق نئے قواعد کے تحت فنگر پرنٹس اور آئرس اسکین کو باقاعدہ طور پر تصدیقی طریقۂ کار میں شامل کر لیا گیا ہے۔ اس اقدام کو شناختی کارڈ کے سیکیورٹی ڈھانچے میں مضبوطی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ بایومیٹرک طریقے عمومی طور پر جعل سازی کے امکانات کم کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ حکومتی فیصلے کے بعد شناختی کارڈ کی تصدیق کے عمل میں ٹیکنالوجی کی بنیاد پر مزید موثر اور فوری اقدامات کی توقع کی جا رہی ہے۔

نوٹیفکیشن میں ایک اور اہم تبدیلی کے طور پر کیو آر کوڈ (QR Code) کو بھی سیکیورٹی اور تصدیقی فیچر کی قانونی حیثیت دے دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق کیو آر کوڈ پر مبنی تصدیق کے ذریعے آف لائن اور آن لائن دونوں صورتوں میں فوری ویری فکیشن ممکن ہو سکے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مختلف اداروں اور سروسز میں شناخت کی پڑتال کے عمل کو تیز اور نسبتاً آسان بنایا جا سکے گا، جبکہ شہریوں کے لیے بھی بار بار پیچیدہ مراحل سے گزرنے کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔

قواعد میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کیو آر کوڈ یا دیگر تکنیکی فیچرز کو مائیکرو چِپ کے متبادل کے طور پر قابلِ استعمال رکھا جا سکتا ہے۔ اس پہلو کو حکومتی پالیسی میں ٹیکنالوجی کے مختلف آپشنز کے لیے لچک (flexibility) کے طور پر لیا جا رہا ہے، تاکہ سیکیورٹی اور تصدیق کے نظام کو وقت کے ساتھ اپ گریڈ کیا جا سکے اور نئے حل شامل کرنے میں قانونی رکاوٹ نہ آئے۔

نادرا کی بڑی رعایت: پیدائشی سرٹیفکیٹ کے بغیر شناختی کارڈ بنوانے کی سہولت

مزید یہ کہ نئے ضابطوں کے مطابق اگر کسی شہری کا کارڈ معطل ہوتا ہے تو اس کے ساتھ منسلک تمام تصدیقی اور توثیقی خدمات بھی فوری طور پر معطل ہو جائیں گی۔ حکام کے مطابق اس فیصلے سے شناختی کارڈ کی غلط استعمال یا غیر مجاز سرگرمیوں کے امکانات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، کیونکہ معطلی کی صورت میں متعلقہ تصدیقی سہولتیں خودکار انداز میں بند ہو جائیں گی۔

نوٹیفکیشن میں بزرگ شہریوں کے لیے بھی سہولت کا ذکر کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ 60 سال سے زائد عمر کے شہریوں کو عمر بھر کے لیے مؤثر اسمارٹ شناختی کارڈ جاری کرنے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ اس اقدام سے توقع ہے کہ بزرگ شہریوں کو بار بار کارڈ کی تجدید یا متعلقہ مراحل کے لیے دفاتر کے چکر لگانے کی ضرورت کم ہو گی اور انہیں طویل مدتی ریلیف مل سکے گا۔

ماہرین کے مطابق شناختی نظام میں بایومیٹرک تصدیق، کیو آر ویری فکیشن اور خودکار معطلی جیسے اقدامات مجموعی طور پر ڈیجیٹل گورننس، سروس ڈیلیوری اور شہری سہولت کاری کے لیے اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ تاہم اس کے ساتھ ڈیٹا سیکیورٹی، پرائیویسی کے تحفظ اور ادارہ جاتی تیاری جیسے پہلوؤں پر مؤثر عملدرآمد بھی ضروری ہوگا، تاکہ نظام شفاف، محفوظ اور عوام کے اعتماد کے مطابق رہے۔

یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس خبر میں بیان کردہ نکات آپ کے فراہم کردہ متن پر مبنی ہیں۔ چونکہ میرے پاس ویب تک رسائی فعال نہیں، اس لیے میں اس نوٹیفکیشن کا نمبر یا تاریخ جیسی اضافی تصدیقی تفصیل خود سے شامل نہیں کر رہا تاکہ غیر مصدقہ معلومات شامل نہ ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں