نادرا کی بڑی رعایت: پیدائشی سرٹیفکیٹ کے بغیر شناختی کارڈ بنوانے کی سہولت
یوتھ ویژن نیوز : (محمد عباس سے) نادرا نے شہریوں کی سہولت کیلئے پیدائشی سرٹیفکیٹ کی شرط ختم کر دی۔ 31 دسمبر 2026 تک لاگو اس نئی پالیسی کے تحت بائیو میٹرک تصدیق پر شناختی کارڈ بنوایا جا سکے گا۔
اسلام آباد (24 فروری 2026): نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے ملک بھر کے شہریوں کے لیے ایک بڑی خوشخبری سناتے ہوئے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (CNIC) بنوانے کے عمل میں غیر معمولی نرمی کا اعلان کیا ہے۔ نادرا کے نئے نوٹیفیکیشن کے مطابق، اب وہ شہری بھی اپنا شناختی کارڈ بنوا سکیں گے جن کے پاس مقامی حکومت کا جاری کردہ کمپیوٹرائزڈ برتھ سرٹیفکیٹ موجود نہیں ہے۔ اس مشروط سہولت کا مقصد ان لاکھوں افراد کو قومی ڈیٹا بیس کا حصہ بنانا ہے جو دستاویزی پیچیدگیوں کی وجہ سے اب تک رجسٹرڈ نہیں ہو سکے تھے۔
مدت اور مقصد
نادرا حکام کے مطابق یہ خصوصی رعایت 31 دسمبر 2026 تک برقرار رہے گی۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد ان دور دراز علاقوں کے رہائشیوں یا پسماندہ طبقات کی مدد کرنا ہے جنہیں یونین کونسل یا مقامی بلدیاتی اداروں سے برتھ سرٹیفکیٹ کے حصول میں دشواری کا سامنا ہے۔ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ اس سے ملک میں شہریوں کی رجسٹریشن کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوگا، جو کہ حکومتی منصوبہ بندی اور شفافیت کے لیے ناگزیر ہے۔
بغیر برتھ سرٹیفکیٹ کارڈ کیسے بنے گا؟
نئے طریقہ کار کے تحت برتھ سرٹیفکیٹ کی جگہ کچھ متبادل شرائط اور تصدیقی مراحل رکھے گئے ہیں:
- خاندانی تصدیق: درخواست گزار کے خاندان کے ان افراد کی بائیو میٹرک تصدیق لازمی ہوگی جو پہلے سے نادرا کے ریکارڈ میں موجود ہیں۔
- بائیو میٹرک ڈیٹا: والدین یا قریبی خونی رشتہ داروں کا ڈیٹا بیس میں موجود ہونا رجسٹریشن کے عمل کو مکمل کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
خواتین کے لیے خصوصی قواعد
نادرا نے خواتین کی رجسٹریشن پر خصوصی توجہ دی ہے اور ان کے لیے درج ذیل طریقہ کار واضح کیا ہے:
1. شادی شدہ خواتین (18 سال سے زائد):
- تصدیق شدہ مقامی نکاح نامہ۔
- والدین میں سے کسی ایک کا شناختی کارڈ۔
- شوہر کا شناختی کارڈ۔
- لازمی شرط: والدین اور شوہر دونوں کی موقع پر بائیو میٹرک تصدیق ضروری ہوگی۔
2. غیر شادی شدہ خواتین (18 سال سے زائد):
- کم از کم والدین میں سے کسی ایک کا شناختی کارڈ۔
- والدین (والد یا والدہ) کی بائیو میٹرک تصدیق۔
ڈیجیٹل پاکستان کی جانب قدم
نادرا کا یہ اقدام ڈیجیٹل پاکستان ویژن کا حصہ ہے، جس کا مقصد ہر پاکستانی شہری کو ایک منفرد شناخت فراہم کرنا ہے تاکہ وہ سرکاری اسکیموں، بینکنگ سروسز اور ووٹنگ جیسے حقوق سے فائدہ اٹھا سکیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پالیسی سے خاص طور پر دیہی علاقوں کی خواتین اور نوجوانوں کو فائدہ پہنچے گا جو اکثر کاغذی کارروائی مکمل نہ ہونے کی وجہ سے کارڈ بنوانے سے کتراتے تھے۔