میٹا کمپنی کے خلاف سنگین الزامات – بچوں کی آن لائن حفاظت میں ناکامی

meta-apple-lawsuit-child-safety-online-predators-revelations-2026

یوتھ ویژن نیوز : (ٹیک نیوز) نیو میکسیکو میں میٹا کے خلاف مقدمے کے دوران ہولناک دستاویزات منظر عام پر آگئیں۔ انکرپشن کے باعث بچوں کے استحصال کی سالانہ 75 لاکھ رپورٹس متاثر ہونے کا انکشاف۔ مارک زکربرگ کے فیصلوں پر کڑی تنقید۔

نیو میکسیکو/لاس اینجلس (21 فروری 2026): سوشل میڈیا کی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ‘میٹا’ اور آئی فون بنانے والی کمپنی ‘ایپل’ کو بچوں کی حفاظت اور رازداری کے حوالے سے سنگین قانونی بحران کا سامنا ہے۔ امریکی ریاست نیو میکسیکو کے محکمہ انصاف نے میٹا کے خلاف ایک ضخیم مقدمہ دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ فیس بک اور انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز ‘آن لائن شکاریوں’ کے لیے ایک آسان منڈی بن چکے ہیں، جہاں معصوم بچوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اندرونی دستاویزات: "مسائل کو قالین کے نیچے چھپا دیا گیا”

نیو میکسیکو عدالت میں جمع کرائی گئی خفیہ دستاویزات، جنہیں حال ہی میں عام کیا گیا ہے، میٹا کے اندرونی نظام کی قلعی کھول دی ہے۔ دستاویزات کے مطابق، میٹا کے اپنے ملازمین ہر سال تقریباً 75 لاکھ بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق رپورٹس پر تبادلہ خیال کر رہے تھے۔ ایک ملازم نے سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے لکھا کہ مارک زکربرگ کی جانب سے میسنجر میں ‘اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن’ کے فیصلے نے ان جرائم کو رپورٹ کرنا ناممکن بنا دیا ہے۔ ملازم نے اس صورتحال کو ان الفاظ میں بیان کیا: "ایسا لگتا ہے جیسے کمپنی نے پتھروں (مسائل) کو ڈھانپنے کے لیے ایک بڑا قالین بچھا دیا ہو۔”

انکرپشن کا تنازع: رازداری یا جرائم کو تحفظ؟

اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کا معاملہ اس مقدمے کا مرکزی نقطہ بن چکا ہے۔ اگرچہ رازداری کے حامی اسے صارفین کے تحفظ کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں، لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں اور خود میٹا کے سیکیورٹی سسٹمز کے لیے یہ ایک دیوار بن گیا ہے۔ 2019 کی ایک اندرونی دستاویز میں اعتراف کیا گیا تھا کہ "جب ہم خود پیغامات نہیں دیکھ سکیں گے، تو ہم ان نقصانات اور جرائم کو کبھی نہیں ڈھونڈ پائیں گے جو آج تلاش کر لیتے ہیں۔” وکلا کا کہنا ہے کہ میٹا کو علم تھا کہ انکرپشن سے بچوں کا استحصال کرنے والوں کو ‘خفیہ پناہ گاہ’ مل جائے گی، لیکن کمپنی نے کاروباری مفادات کو انسانی جانوں پر ترجیح دی۔

زکربرگ کا دفاع اور ذہنی صحت کے خدشات

لاس اینجلس کی عدالت میں میٹا کے سربراہ مارک زکربرگ کو وکلا کے سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان پر دباؤ ڈالا گیا کہ انہوں نے انسٹاگرام پر ایسے بیوٹی فلٹرز کی اجازت کیوں دی جو نوجوانوں، بالخصوص لڑکیوں کی ذہنی صحت کو متاثر کر رہے ہیں۔ وکلا نے الزام لگایا کہ کمپنی نے اپنے کاروبار کو پھیلانے کی دوڑ میں نوجوان نسل کی نفسیاتی اور جسمانی حفاظت کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ اگر یہ الزامات ثابت ہو جاتے ہیں، تو عدالتیں ان مصنوعات میں بنیادی تبدیلیاں لانے کا حکم دے سکتی ہیں، جس سے اربوں صارفین متاثر ہوں گے۔

ایپل اور ویسٹ ورجینیا کا مقدمہ

صرف میٹا ہی نہیں، بلکہ ایپل بھی ویسٹ ورجینیا میں ایک ایسے ہی مقدمے کا سامنا کر رہی ہے۔ ایپل پر الزام ہے کہ وہ اپنے آئی فونز اور کلاؤڈ سروسز پر بچوں کے جنسی استحصال کے مواد (CSAM) سے نمٹنے میں ناکام رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان مقدمات کے نتائج مستقبل کی انٹرنیٹ پالیسی اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کی ذمہ داریوں کا تعین کریں گے۔

عدالتی کارروائی کا آغاز

نیو میکسیکو کے اٹارنی جنرل راؤل ٹوریز کی جانب سے دائر کردہ مقدمے کی ابتدائی سماعت 9 فروری کو شروع ہوئی، جس میں مزید سنسنی خیز انکشافات متوقع ہیں۔ اگرچہ مارک زکربرگ سے اس مرحلے پر گواہی کی توقع نہیں، لیکن ان کی کمپنی کے اندرونی میسجز نے پہلے ہی عالمی سطح پر ایک بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا ڈیجیٹل دور میں بچوں کا تحفظ ممکن ہے یا نہیں؟

اپنا تبصرہ بھیجیں