خیبرپختونخوا کے اسکولوں میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس نصاب میں شامل کرنے کا فیصلہ

KP Government to Introduce Artificial Intelligence in School Curriculum

یوتھ ویژن نیوز : (علی حسنین سے) خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے کے سرکاری اسکولوں میں جدید تعلیم کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے چھٹی جماعت سے بارہویں جماعت تک آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کو باقاعدہ نصاب کا حصہ بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق صوبے میں اے آئی کی تدریس کے لیے اس وقت 5 ہزار 525 آئی ٹی لیبارٹریز کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ ہائیر سیکنڈری اسکولوں میں 225 جبکہ مڈل اسکولوں میں 3 ہزار 515 آئی ٹی لیبز درکار ہیں، جو تاحال دستیاب نہیں ہیں۔

میٹا کا 1.5 ارب ڈالر کا منصوبہ ٹیکساس میں جدید ترین اے آئی ڈیٹا سینٹر قائم کرنے کا فیصلہ

محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے حکام کا کہنا ہے کہ اسکولوں میں پڑھائے جانے والے کمپیوٹر سائنس کے موجودہ نصاب میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے متعلق مواد شامل نہیں، جس کے باعث نصاب میں بنیادی اور وسیع پیمانے پر تبدیلیاں ناگزیر ہو چکی ہیں۔

تعلیمی منصوبے کے تحت مختلف جماعتوں کے نصاب میں 35 سے 50 فیصد تک اے آئی سے متعلق مواد شامل کیا جائے گا، جس میں بنیادی پروگرامنگ، مشین لرننگ کے تعارفی تصورات اور ڈیجیٹل اسکلز پر توجہ دی جائے گی۔

اے آئی کی مؤثر اور معیاری تدریس کو یقینی بنانے کے لیے محکمہ تعلیم نے 7 ہزار 555 آئی ٹی اساتذہ کی بھرتی کا بھی فیصلہ کیا ہے، تاکہ طلبا کو جدید ٹیکنالوجی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔

محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا کے مطابق آرٹیفیشل انٹیلیجنس کو مارچ 2026 سے باضابطہ طور پر نصاب کا حصہ بنا دیا جائے گا، جبکہ اس حوالے سے مرحلہ وار انفراسٹرکچر اور اساتذہ کی فراہمی کا عمل بھی شروع کیا جائے گا۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد خیبرپختونخوا کے طلبا کو مستقبل کی معیشت، ڈیجیٹل مارکیٹ اور جدید ٹیکنالوجی میں مسابقت کے قابل بنانا ہے، تاکہ وہ قومی اور عالمی سطح پر بہتر کردار ادا کر سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں