افغان مہمان نوازی بڑی غلطی تھی، وزیر دفاع خواجہ آصف
یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) خواجہ آصف کے حالیہ بیان نے سیاسی و عوامی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، جس میں انہوں نے پاکستان کی 78 سالہ تاریخ پر نظر ڈالتے ہوئے افغان مہمان نوازی کو ایک بڑی غلطی قرار دیا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے پیغام میں وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان نے ماضی میں کئی فیصلے کیے، مگر افغانوں کو طویل عرصے تک پناہ دینا سب سے فاش غلطی ثابت ہوا۔ ان کے مطابق یہ وہ عناصر ہیں جن پر پاکستان کی جانب سے افغانستان کے اسپتال پر حملے کا الزام لگایا جا رہا ہے، حالانکہ یہی گروہ ماضی میں مساجد، بازاروں، اسکولوں اور نہتے شہریوں کو نشانہ بنانے جیسے سنگین اقدامات میں ملوث رہے ہیں۔
پاکستان کی افغان پالیسی اور تاریخی پس منظر
پاکستان کی افغان پالیسی گزشتہ کئی دہائیوں پر محیط ہے، جس میں مختلف ادوار میں لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی گئی۔ وزیر دفاع نے اپنے بیان میں اس تاریخی تناظر کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے نہ صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر افغان شہریوں کو جگہ دی بلکہ ایک سپر پاور کے خلاف بھی ان کے ساتھ کھڑا ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ تین نسلوں تک جاری رہنے والی یہ مہمان نوازی اب ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں اس کے نتائج قومی سلامتی اور معیشت دونوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اس عرصے کے دوران پاکستان نے اربوں روپے کے وسائل خرچ کیے، جبکہ اس کے بدلے میں سیکیورٹی چیلنجز اور سرحدی مسائل میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
سیکیورٹی خدشات اور الزامات
وزیر دفاع کے مطابق پاکستان کو درپیش سیکیورٹی خطرات میں اضافہ ایک اہم مسئلہ ہے، جس میں سرحد پار سے ہونے والی کارروائیاں اور دہشت گردی کے واقعات شامل ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض عناصر جو پاکستان میں پناہ حاصل کرتے رہے، وہی بعد ازاں ریاست کے خلاف سرگرم ہو گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ منشیات کی اسمگلنگ اور غیر قانونی سرگرمیاں بھی انہی عناصر کے ذریعے پروان چڑھیں، جس نے نہ صرف ملکی معیشت بلکہ معاشرتی ڈھانچے کو بھی متاثر کیا۔ مزید برآں، انہوں نے کہا کہ ایسے گروہ اپنے وعدوں کی پاسداری نہیں کرتے اور مختلف مواقع پر مالی تقاضے سامنے رکھتے ہیں، جو صورتحال کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں۔
عوامی و سیاسی ردعمل
وزیر دفاع کے اس بیان کے بعد ملک میں مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کچھ حلقے اس موقف کی حمایت کرتے ہوئے اسے زمینی حقائق کا عکاس قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات سے علاقائی تعلقات مزید متاثر ہو سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی اس بیان پر بحث جاری ہے، جہاں صارفین مختلف زاویوں سے اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے بیانات نہ صرف داخلی سیاست بلکہ خارجہ پالیسی پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں سیکیورٹی صورتحال پہلے ہی نازک ہے۔
علاقائی صورتحال اور مستقبل کے امکانات
مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اس بیان کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اپنی پالیسیوں کا ازسرنو جائزہ لینا ہوگا تاکہ قومی مفادات کا بہتر تحفظ کیا جا سکے۔ وزیر دفاع کے بیان سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ حکومت مستقبل میں افغان پالیسی کے حوالے سے سخت اقدامات کر سکتی ہے۔ تاہم، اس کے ساتھ ساتھ سفارتی توازن برقرار رکھنا بھی ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ مبصرین کے مطابق پاکستان کو اپنی سلامتی، معاشی استحکام اور علاقائی تعلقات کے درمیان ایک متوازن حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ موجودہ حالات میں بہتری لائی جا سکے۔