170 سیٹیں لینے والا جیل میں، 80 والا حکومت میں ہے: خالد مقبول صدیقی کا پیپلز پارٹی پر وار
یوتھ ویژن نیوز : (23 فروری 2026)متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے کنوینر اور وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے ملکی سیاسی نظام اور بالخصوص سندھ کی صورتحال پر کڑی تنقید کرتے ہوئے بڑے سوالات اٹھا دیے ہیں۔
کراچی میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے موجودہ جمہوری ڈھانچے پر حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ "یہ کیسا انصاف ہے کہ جس کے پاس 170 سیٹیں ہیں وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہے اور محض 80 سیٹیں رکھنے والی جماعت اقتدار کے مزے لوٹ رہی ہے"۔ ان کا اشارہ بانی پی ٹی آئی کی قید اور موجودہ حکومتی اتحاد کی جانب تھا، جس نے ملکی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔
سندھ اسمبلی کی قرارداد اور ‘سندھو دیش’ کا خدشہ
خالد مقبول صدیقی نے سندھ اسمبلی میں حالیہ منظور ہونے والی قرارداد کو پاکستان کے آئین کے منافی قرار دیا۔ انہوں نے سخت الفاظ میں کہا کہ سندھ کے شہری علاقوں کے عوام پوچھ رہے ہیں کہ کیا کوئی صوبائی اسمبلی پاکستان کے آئین سے بالاتر ہو سکتی ہے؟ انہوں نے پیپلز پارٹی پر الزام لگایا کہ وہ ‘سندھو دیش’ کے خواب کو زندہ رکھنے کے لیے ایسی قراردادیں لا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایم کیو ایم پاکستان سے محبت کرنے والی جماعت ہے اور جب تک ہم موجود ہیں، ملک کے خلاف کوئی بھی سازش کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی۔
مردم شماری اور کراچی کی آبادی کا تنازع
وفاقی وزیر نے مردم شماری کے معاملے پر اپنا دیرینہ مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ سندھ بالخصوص کراچی میں جعلی مردم شماری کے ذریعے پیپلز پارٹی قابض ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کراچی کی آبادی کو 33 فیصد کم گنا گیا ہے تاکہ شہر کے سیاسی و معاشی حقوق پر ڈاکہ ڈالا جا سکے۔ خالد مقبول صدیقی نے مطالبہ کیا کہ سندھ میں نئی مردم شماری افواجِ پاکستان کی نگرانی میں کرائی جائے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور عوام کو ان کا حقیقی حق ملے۔
معاشی ناانصافی اور 30 ہزار ارب کا حساب
معاشی اعداد و شمار پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے انکشاف کیا کہ وفاق کی جانب سے سندھ کو 30 ہزار ارب روپے فراہم کیے گئے، لیکن افسوس کہ اس کا بڑا حصہ کراچی پر خرچ ہونے کے بجائے مبینہ طور پر حکومتی عیاشیوں کی نذر ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ ملک کا امیر ترین صوبہ ہونے کے باوجود غربت کی شرح میں سب سے آگے ہے، جو کہ پیپلز پارٹی کی بیڈ گورننس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
نئے صوبوں کا مطالبہ اور آئینی آرٹیکل
خالد مقبول صدیقی نے ذوالفقار علی بھٹو کے بنائے ہوئے 1973 کے آئین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل (4)239 نئے صوبے بنانے کا اختیار دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی بھٹو کے نام پر سیاست تو کرتی ہے لیکن ان کے بنائے ہوئے آئین پر عمل کرنے سے کتراتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئین کو ایک زندہ دستاویز سمجھ کر اس پر مکمل عمل کیا جائے اور انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کی تشکیل کی راہ ہموار کی جائے۔
کراچی کے حقوق اور کوٹہ سسٹم
کوٹہ سسٹم پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 72 سال قبل لگایا گیا یہ نظام آج بھی شہری علاقوں کے نوجوانوں کا استحصال کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سسٹم کے تحت کبھی کسی غریب ہاری کو فائدہ نہیں پہنچا بلکہ یہ صرف مخصوص طبقے کو نوازنے کے لیے استعمال ہوا۔ انہوں نے پی پی پی کو چیلنج کیا کہ وہ اپنے ہی منتخب کردہ میئر کو اختیارات دینے سے کیوں کتراتی ہے؟