ایران جنگ کے اثرات: امریکا میں ایندھن کی قیمتیں بلند، معیشت متاثر
یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) ایران کے ساتھ جاری تناؤ اور ممکنہ جنگ کے اثرات اب امریکا کی معیشت پر واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران نے اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے جواب میں دنیا کی اہم ترین آبی گذرگاہ آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی مارکیٹ میں پیٹرول اور خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
امریکی آٹو موبائل ایسوسی ایشن کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں پیٹرول کی اوسط قیمت 3.68 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے، جو جنگ سے قبل تقریباً 23 فیصد زیادہ ہے۔ عالمی مارکیٹ میں بھی برینٹ کروڈ کی قیمت 103.14 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت 98.71 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہے، جو کہ 2 سے 3 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔
ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا براہِ راست اثر امریکی لاجسٹکس، شپنگ، اور بین الاقوامی پروازوں پر پڑ رہا ہے۔ فیڈایکس جیسے بڑے کورئیر کمپنیوں نے ڈیزل کی قیمت 3.55 ڈالر فی گیلن سے بڑھنے پر اضافی سرچارج عائد کرنا شروع کر دیا ہے، جبکہ جیٹ فیول کی بڑھتی قیمتیں ہوائی سفر کو مہنگا کر رہی ہیں۔ امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق ڈیزل کی اوسط قیمت اب 4.85 ڈالر فی گیلن تک جا پہنچی ہے، جو جنگ سے پہلے 3.71 ڈالر تھی۔
”جنگ جلد ختم ہوگی“ ٹرمپ کے بیان سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 9فیصد تک بڑی کمی
اس صورتحال کا اثر روزمرہ زندگی اور صنعت پر بھی پڑ رہا ہے۔ اشیائے خور و نوش کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں اور کھاد کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے کیونکہ اس کے کئی اہم اجزا آبنائے ہرمز کے ذریعے آتے ہیں۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اگر ایران جنگ طویل ہو گئی تو امریکا میں مہنگائی اور لاگت میں اضافہ مزید شدت اختیار کرے گا۔
سیاسی سطح پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر اندرونی اور بیرونی دونوں جانب سے سخت دباؤ ہے، جہاں امریکی کانگریس جنگ کے اثرات پر غور کر رہی ہے، وہیں جی سیون ممالک نے صدر ٹرمپ سے جنگ کے جلد خاتمے پر زور دیا ہے۔ ماہرین بین الاقوامی تعلقات کا کہنا ہے کہ ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور اقتصادی دباؤ امریکا کے سیاسی فیصلوں پر بھی اثر ڈالیں گے، اور مستقبل قریب میں عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کی غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔
یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ ایران کے ساتھ بڑھتا ہوا تناؤ نہ صرف امریکا بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے، اور عالمی توانائی مارکیٹ پر اس کے اثرات طویل مدت تک محسوس کیے جائیں گے۔