سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف پہلی بار عدالتی کارروائی
یوتھ ویژن نیوز :(ٹیک ڈیسک): امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے خلاف ایک ایسا تاریخی مقدمہ شروع ہو چکا ہے جو مستقبل میں انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے کام کرنے کے انداز کو ہمیشہ کے لیے بدل سکتا ہے۔ لاس اینجلس کی ایک اعلیٰ عدالت میں دائر اس مقدمے میں فیس بک، انسٹاگرام، یوٹیوب، ٹِک ٹاک اور اسنیپ چیٹ جیسی عالمی کمپنیوں پر یہ سنگین الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے پلیٹ فارمز کو "قصداً” ایسا ڈیزائن کیا ہے کہ وہ انسانی دماغ کے لیے نشہ آور بن جائیں۔ قانونی ماہرین اس کیس کا موازنہ 1980 کی دہائی میں تمباکو اور سگریٹ کمپنیوں کے خلاف ہونے والی کارروائیوں سے کر رہے ہیں۔
اس مقدمے کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ ان کمپنیوں کو اب 22 "بیل ویدر” (Bellwether) مقدموں کا سامنا کرنا ہوگا، جو کہ مستقبل کے ہزاروں ممکنہ کیسز کے لیے ایک مثال بنیں گے۔ پیر سے شروع ہونے والے بیانات کے مرحلے میں میٹا کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ سمیت دیگر بڑی کمپنیوں کے سربراہان کی عدالت میں پیشی اور بیانات متوقع ہیں۔ ماضی میں بھی صارفین نے آن لائن نقصانات اور نفسیاتی اثرات کی بنیاد پر ان کمپنیوں کو عدالتوں میں گھسیٹنے کی کوشش کی ہے، لیکن ہر بار یہ کمپنیاں ایک خاص قانونی ڈھال کی وجہ سے بچ نکلنے میں کامیاب رہی ہیں۔
سیکشن 230 اور کمپنیوں کا دفاع: سوشل میڈیا کمپنیوں کا سب سے بڑا دفاع امریکہ کے مواصلاتی ایکٹ (Communications Act) کا سیکشن 230 ہے۔ یہ قانون آن لائن پلیٹ فارمز کو اس بات سے تحفظ فراہم کرتا ہے کہ وہ کسی بھی تھرڈ پارٹی (صارفین) کے پوسٹ کردہ مواد کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ آسان الفاظ میں، اگر کوئی صارف فیس بک پر غلط مواد اپ لوڈ کرتا ہے، تو موجودہ قانون کے مطابق فیس بک اس کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ تاہم، اس بار مدعیان کا موقف یہ ہے کہ مسئلہ صرف ‘مواد’ کا نہیں بلکہ ان ‘پلیٹ فارمز کے ڈیزائن’ کا ہے جو نوجوانوں اور بچوں میں ذہنی مسائل اور ایڈکشن پیدا کر رہے ہیں۔
عدالت میں پیش کیے گئے دلائل کے مطابق، ان کمپنیوں نے الگورتھمز کو اس طرح ترتیب دیا ہے کہ وہ انسانی نفسیات کے کمزور پہلوؤں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے صارفین کو گھنٹوں اپنی اسکرینوں سے چپکے رہنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اگر عدالت ان کمپنیوں کے خلاف فیصلہ سناتی ہے، تو سیکشن 230 کا تحفظ ختم ہو سکتا ہے، جس کے بعد سوشل میڈیا کمپنیوں کو ہر اس نقصان کا جوابدہ ہونا پڑے گا جو ان کے پلیٹ فارم کے استعمال سے کسی شہری کو پہنچے گا۔ یہ مقدمہ نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا میں سوشل میڈیا ریگولیشنز کے لیے ایک نیا رخ متعین کرے گا۔