دانیہ شاہ کے شوہر حکیم شہزاد کی نویں جماعت کی طالبہ سے 5ویں شادی، سوشل میڈیا پر ہنگامہ

ملتان کے حکیم شہزاد کی نویں جماعت کی طالبہ سے پانچویں شادی کی مبینہ خبر پر سوشل میڈیا ردعمل کی نمائندہ تصویر۔

یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) ملتان کے معروف حکیم اور سوشل میڈیا پر متنازع شخصیت کے طور پر جانے جانے والے حکیم شہزاد المعروف لوہا پاڑ ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئے ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق انہوں نے مبینہ طور پر نویں جماعت کی ایک طالبہ سے اپنی 5ویں شادی کر لی ہے، جس کے بعد سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں اس معاملے پر شدید بحث چھڑ گئی ہے۔

حکیم شہزاد کی پرانی زندگی بھی خبروں میں رہی ہے۔ چند سال قبل انہوں نے مرحوم ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی سابقہ اہلیہ دانیہ شاہ سے شادی کی تھی، جس کے بعد دونوں کی زندگی اور سوشل میڈیا پر موجود تصاویر عوام کی دلچسپی کا مرکز بنیں۔ دانیہ شاہ اور حکیم شہزاد کا ایک بیٹا بھی ہے، اور اس شادی نے حکیم شہزاد کی شہرت میں مزید اضافہ کیا تھا۔

اب اطلاعات ہیں کہ حکیم شہزاد نے نویں جماعت کی طالبہ سے شادی کر کے اپنی شادیوں کی مجموعی تعداد پانچ کر دی ہے۔ ان کی پہلی اہلیہ کا انتقال ہو چکا ہے جبکہ وہ اس وقت بیک وقت چار بیویوں کے شوہر ہیں۔ اس خبر کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف تصاویر اور دعوے گردش کر رہے ہیں، جن پر صارفین اپنے ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں۔

عوامی ردعمل میں کئی صارفین نے کم عمر لڑکی سے شادی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسے معاشرتی و اخلاقی مسئلہ قرار دیا ہے۔ کچھ صارفین نے قانونی پہلوؤں پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا ہے کہ کیا کم عمر لڑکی سے شادی پاکستان میں قانونی طور پر جائز ہے یا نہیں۔

ماہرین سماجیات کے مطابق پاکستان میں کم عمری کی شادی ایک حساس موضوع ہے اور اس طرح کے واقعات پر سماجی، قانونی اور مذہبی بحث ہر وقت جاری رہتی ہے۔ ایسے واقعات کی میڈیا کوریج اس بحث کو مزید شدت بخش دیتی ہے، اور عوام کے درمیان بھی مختلف آراء جنم لیتی ہیں۔

دوسری جانب، کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی معلومات کی تصدیق ضروری ہے، کیونکہ اکثر اوقات غیر مصدقہ خبریں بھی غلط فہمی پیدا کر دیتی ہیں۔ حکیم شہزاد یا ان کے قریبی ذرائع کی جانب سے اب تک اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان نہیں آیا، جس کی وجہ سے لوگ حقیقت جاننے کے لیے بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں۔

یہ خبر نہ صرف حکیم شہزاد کی ذاتی زندگی کی توجہ کا مرکز بن گئی ہے بلکہ سماجی اور قانونی پہلوؤں پر بھی عوام میں بحث کی نئی لہر پیدا کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر لوگ اس معاملے کی تحقیقات اور آگے آنے والے بیانات پر نظر رکھے ہوئے ہیں، تاکہ پتہ چل سکے کہ آیا یہ شادی واقعی درست اور قانونی ہے یا صرف مبینہ اطلاعات ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں