حکومت کا انٹیلی جنس فیلر کا دعویٰ مسترد، بلوچستان میں آپریشنز اور ترقیاتی منصوبوں کا بھرپور دفاع

govt-rejects-intelligence-failure-claims-balochistan-security-tallal-badar

یوتھ ویژن نیوز :(سمیر علی خان سے) وزیرِ مملکت برائے داخلہ و انسدادِ منشیات محمد طلال بدر نے منگل کے روز قومی اسمبلی میں ملک خصوصاً بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال پر ہونے والی بحث کو سمیٹتے ہوئے ‘انٹیلی جنس فیلر’ کے الزامات کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے ایوان کو بتایا کہ حالیہ واقعات سے قبل خفیہ اطلاعات پر مبنی کارروائیوں کے نتیجے میں بڑی تباہی کو روکا گیا۔ ہرنائی اور پنجگور میں ہونے والے آپریشنز میں تین درجن سے زائد دہشت گرد ہلاک کیے گئے، جبکہ جاری آپریشنز میں اب تک مجموعی طور پر 177 دہشت گرد انجام کو پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کی رٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

طلال بدر نے حقائق پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی محرومی کا بیانیہ دہشت گردی کو جواز فراہم کرنے اور بین الاقوامی سرمایہ کاری، بشمول سی پیک (CPEC) اور گوادر کی اہمیت کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ این ایف سی (NFC) ایوارڈ کے تحت بلوچستان کو پنجاب کے مقابلے میں فی کس 40 فیصد زیادہ حصہ ملتا ہے، اور صوبائی فنڈز کا 90 فیصد وفاق فراہم کرتا ہے۔ وزیرِ مملکت نے ترقیاتی اشاریوں کا موازنہ کرتے ہوئے بتایا کہ آزادی کے وقت بلوچستان میں صرف 114 اسکول تھے جو اب بڑھ کر 15 ہزار سے تجاوز کر چکے ہیں، جبکہ صوبے میں 12 یونیورسٹیاں اور 13 کیڈٹ کالجز علم کی شمع روشن کر رہے ہیں۔

وزیرِ مملکت نے افسوس کا اظہار کیا کہ دہشت گرد اسکولوں، ہسپتالوں، بینکوں اور شاہراہوں کو نشانہ بناتے ہیں جو کہ عام شہریوں کی سہولیات ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے والے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ طلال بدر نے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ 17 سیکیورٹی اہلکاروں اور 33 مزدوروں کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔ انہوں نے اپوزیشن پر زور دیا کہ یہ ایک قومی مسئلہ ہے اور اس پر سیاست چمکانے کے بجائے تمام سیاسی قوتوں کو مل کر دہشت گردی کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننا ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں