ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد کا بڑا فیصلہ! فواد چوہدری فراڈ کیس سے بری

سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری اسلام آباد عدالت میں بریت کے بعد اپنے وکلاء کے ہمراہ، فراڈ کیس کا فیصلہ۔

یوتھ ویژن نیوز : (محمد عباس سے ) اسلام آباد: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کے خلاف درج فراڈ کے مقدمے میں بڑا فیصلہ سناتے ہوئے انہیں تمام الزامات سے بری کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق، جوڈیشل مجسٹریٹ شائستہ کنڈی نے کیس کی سماعت مکمل ہونے پر بریت کی درخواست منظور کی اور فواد چوہدری کو باعزت رہا کرنے کا حکم جاری کیا۔

سماعت کے دوران فواد چوہدری اپنے وکلاء شمس اقبال ایڈووکیٹ اور قمر عنایت راجہ ایڈووکیٹ کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔ استغاثہ کی جانب سے شکایت کنندہ ملک محمد ظہیر بھی عدالت میں موجود تھے، تاہم ان کے وکیل فرحان منظور کی عدم موجودگی کے باعث فواد چوہدری کے وکلاء نے بریت کی درخواست پر تفصیلی دلائل دیے۔

عدالت میں وکلاء کے دلائل: استغاثہ فواد چوہدری کے خلاف شواہد فراہم کرنے میں ناکام

وکیل صفائی شمس اقبال ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ تھانہ آبپارہ میں درج یہ مقدمہ سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا تھا اور استغاثہ کے پاس فواد چوہدری کے خلاف کوئی بھی ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ شکایت کنندہ کی جانب سے کیس میں عدم دلچسپی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ مقدمہ کمزور اور بے بنیاد ہے۔

تھانہ آبپارہ میں درج فراڈ مقدمے کا ڈراپ سین: جوڈیشل مجسٹریٹ کا منصفانہ فیصلہ

عدالت نے ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لینے اور وکلاء کے دلائل سننے کے بعد قرار دیا کہ دستیاب شواہد کی بنیاد پر مقدمہ مزید نہیں چلایا جا سکتا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ نے فواد چوہدری کی بریت کی درخواست نمٹاتے ہوئے انہیں فراڈ کیس سے بری کر دیا۔ یوتھ ویژن نیوز کے مطابق، فواد چوہدری نے عدالت کے باہر گفتگو کرتے ہوئے اسے حق اور سچ کی فتح قرار دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں