پاک چین زرعی تعاون میں نئی پیشرفت، متعدد ایم او یوز پر دستخط جدید چینی ٹیکنالوجی منتقل کرنے کا فیصلہ
یوتھ ویژن نیوز : (محمد عباس سے) چین کے زرعی ماہرین اور صنعت کاروں کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد (UAF) کا دورہ مکمل کر لیا ہے، جس کے دوران دونوں ممالک کے درمیان ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مارکیٹ انٹیگریشن کے لیے متعدد مفاہمت کی یادداشتوں (MOUs) پر دستخط کیے گئے۔ کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ (CI-UAF) کے زیرِ اہتمام ہونے والے اس دورے میں 12 بڑی چینی ایگری بزنس کمپنیوں کے ایگزیکٹوز، نارتھ ویسٹ اے اینڈ ایف یونیورسٹی (NWAFU) کے پروفیسر اور سلک روڈ بائیو ہیلتھ ایگریکلچرل انڈسٹری الائنس کے نمائندے شامل تھے۔ یہ دورہ پاکستان میں جدید زرعی اصلاحات کے حوالے سے ایک سنگِ میل ثابت ہوگا۔
چینی وفد نے زراعت کی مکمل ویلیو چین بشمول تل اور مرچ کی صنعت، سمارٹ ہین بریڈنگ ٹیکنالوجی، پھلوں کی کاشت و پروسیسنگ، جدید زرعی مشینری اور سبزیوں کے بیجوں کی افزائش میں اپنی مہارت کا مظاہرہ کیا۔ وائس چانسلر یو اے ایف پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی اور مقامی ڈین ڈاکٹر صدام حسین کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں اکیڈمک ریسرچ کو عملی اور مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق حل میں بدلنے پر اتفاق کیا گیا۔ اس تعاون کا مقصد پاکستان کی مقامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے تاکہ ملکی برآمدات میں اضافہ ہو سکے۔
پاکستان چین نے E-Mining پلیٹ فارم کا آغاز، معدنیات کے شعبے میں تعاون کے لیے MoUs پر دستخط
دورے کے دوران بی ٹو بی (B2B) میچ میکنگ سیشنز کا انعقاد کیا گیا جہاں چینی مندوبین نے پولٹری، فرٹیلائزر اور پریسجن ایگریکلچر سے وابستہ 10 سے زائد بڑی پاکستانی کمپنیوں کے ساتھ براہِ راست ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کے نتیجے میں ٹیکنالوجی کی منتقلی، مہارتوں کی ترقی کے پروگرام اور وسائل کے اشتراک کے ٹھوس معاہدے طے پائے۔ چینی وفد نے یو اے ایف کے نمائش مرکز اور تجربہ گاہوں کا بھی دورہ کیا تاکہ مقامی تحقیقی صلاحیتوں کا جائزہ لیا جا سکے اور چینی ٹیکنالوجی کو پاکستانی ماحول کے مطابق ڈھالنے کے امکانات تلاش کیے جا سکیں۔