دہشت گردی کی نئی لہر: بلاول بھٹو زرداری کا تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پیج پر آنے کا مطالبہ
یوتھ ویژن نیوز : (مظہر اسحاق چشتی سے) دہشت گردی کی نئی لہر پر بلاول بھٹو زرداری کا بیان: تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پیج پر آکر اندرونی و بیرونی چیلنجز اور سازشوں کا مشترکہ مقابلہ کرنے کی اپیل۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ملک کو اس وقت اندرونی اور بیرونی مشکلات کا سامنا ہے اور موجودہ حالات میں تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پیج پر آنا چاہیے۔ لاڑکانہ میں افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے زور دیا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کی نئی لہر کے تناظر میں سیاسی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر قومی مفاد میں اتحاد ضروری ہے، تاکہ ملک کے خلاف ہونے والی سازشوں کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔
بلاول بھٹو زرداری کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی صورتحال اور خطے میں بڑھتی کشیدگی ایسے عوامل ہیں جن پر قومی سطح پر یکسو اور مشترکہ موقف اپنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز صرف داخلی نہیں، بلکہ بیرونی محاذ پر بھی پیچیدگیاں موجود ہیں، اس لیے سیاسی قیادت کو باہمی اختلافات اور محاذ آرائی سے ہٹ کر قومی سلامتی اور استحکام کو ترجیح دینا ہوگی۔
بلاول کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ اور بعض علاقوں میں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر پاکستان کو ایک مرتبہ پھر منظم اور متحد حکمت عملی کی ضرورت ہے، جس میں سیاسی جماعتوں کا ایک پلیٹ فارم پر آنا فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے۔
پی پی پی چیئرمین نے اپنے خطاب میں سندھ کے بلدیاتی نظام کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ سندھ کا بلدیاتی ڈھانچہ دیگر صوبوں کے مقابلے میں زیادہ خودمختار ہے۔ انہوں نے لاڑکانہ کے مقامی معاملات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ لاڑکانہ کا میئر بننا آسان نہیں، تاہم ان کے بقول شہری سطح پر خدمات انجام دینے والے نمائندوں نے عوامی مسائل کے حل میں کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کراچی سے لاڑکانہ تک پارٹی نمائندوں کی کارکردگی پر اظہارِ تشکر بھی کیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے سندھ حکومت اور بلدیاتی اداروں کے خلاف جاری مبینہ کردار کشی مہم پر بھی بات کی اور موقف اختیار کیا کہ ایسی مہمات مخصوص مفادات کے تحت چلائی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق اس مہم کا مقصد کراچی کو سندھ سے الگ کرنے جیسے بیانیے کو تقویت دینا بھی ہو سکتا ہے۔ بلاول نے کہا کہ پیپلز پارٹی قومی، صوبائی اور بلدیاتی سطح پر اپنا کردار ادا کرتی رہے گی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے سیاسی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ملک میں سیکیورٹی صورتحال جب بھی سنگین رخ اختیار کرتی ہے تو قومی یکجہتی اور سیاسی اتفاقِ رائے کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ قومی سطح پر “ایک پیج” ہونے کا مطالبہ عملی شکل تب ہی اختیار کرتا ہے جب سیاسی جماعتیں کم از کم چند بنیادی نکات پر مشترکہ حکمت عملی ترتیب دینے پر آمادہ ہوں۔ بلاول کے حالیہ بیان کو اسی پس منظر میں دیکھا جا رہا ہے، جس میں دہشت گردی کے دوبارہ ابھرتے خطرے اور سیاسی ہم آہنگی کے درمیان تعلق واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔