عالمی منڈی میں بھارت اور بنگلہ دیش سے مقابلہ: اپٹما کا امریکا میں ڈیوٹی فری رسائی کا مطالبہ

پاکستان کی ٹیکسٹائل فیکٹری کا منظر جہاں برآمدی معیار کے کپڑے تیار کیے جا رہے ہیں، اپٹما اور وزارت تجارت کے درمیان مذاکرات کی علامت۔

یوتھ ویژن نیوز : (عمران قذافی سے) پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی صنعت "ٹیکسٹائل” نے ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے حکومت سے امریکا میں ڈیوٹی فری رسائی کا فوری مطالبہ کر دیا ہے۔ آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے وزیر تجارت جام کمال خان کو ایک ہنگامی مراسلہ بھیجا ہے جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر بروقت سفارتی اور تجارتی اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان اپنی سب سے بڑی مارکیٹ کھو سکتا ہے۔

ٹیکسٹائل انڈسٹری چیلنجز

اپٹما کے خط کے مطابق، بھارت اور بنگلہ دیش نے عالمی سطح پر نئے تجارتی معاہدوں کے ذریعے پاکستان کے لیے مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔ بھارت نے امریکا کے ساتھ 18 فیصد ٹیرف فریم ورک طے کر لیا ہے، جبکہ پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات پر اب بھی اوسطاً 19 فیصد ڈیوٹی عائد ہے۔ اس ایک فیصد کے فرق اور بھارت کے یورپی یونین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے (FTA) نے پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے عالمی منڈی میں قیمتوں کا مقابلہ کرنا ناممکن بنا دیا ہے۔

درآمدی مارکیٹ پر اثرات:

پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات کا بڑا حصہ امریکی منڈی پر منحصر ہے۔ اپٹما کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش پہلے ہی ڈیوٹی میں رعایت حاصل کر رہا ہے اور اب بھارت کی نئی تجارتی پیش رفت پاکستان کے لیے "الارم بیل” ہے۔ ایسوسی ایشن نے زور دیا ہے کہ حکومت ہنگامی بنیادوں پر واشنگٹن کے ساتھ تجارتی مذاکرات کرے تاکہ پاکستانی ملبوسات اور کپڑے کو دیگر علاقائی حریفوں کے برابر لایا جا سکے اور ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا مل سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں