آئی آر ایس اور یوتھ فورم فار کشمیر کے اشتراک سے یوتھ پالیسی ڈائیلاگ 2026 کا انعقاد
خصصؤصی رپورٹ برائے علی رضا
یوتھ ویژن نیوز : (اسلام آباد) – انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز (آئی آر ایس) نے یوتھ فورم فار کشمیر (وائی ایف کے) کے اشتراک سے یوتھ پالیسی ڈائیلاگ 2026 کا انعقاد کیا۔ منتظمین کے مطابق مکالمے میں 100 سے زائد نوجوانوں نے شرکت کی اور جموں و کشمیر کے تنازع سمیت علاقائی سلامتی، انسانی حقوق اور پالیسی سازی سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔
مکالمے کا مقصد نوجوانوں کو مسئلہ کشمیر کے تاریخی اور قانونی پس منظر، سلامتی سے متعلق اثرات اور انسانی حقوق کے پہلوؤں سے آگاہ کرنا تھا۔ اس کے علاوہ معلومات کے پھیلاؤ اور ڈیجیٹل ماحول کے کردار پر بھی توجہ دی گئی، تاکہ نوجوان متعلقہ معاملات کو سمجھنے اور پالیسی مباحث میں بامعنی حصہ لینے کے قابل ہوسکیں۔
چار پالیسی کمیٹیوں میں سفارشات کی تیاری
مکالمے کے شرکا کو چار پالیسی کمیٹیوں میں تقسیم کیا گیا۔ ہر کمیٹی کو ایک مخصوص موضوع پر سفارشات تیار کرنے کی ذمہ داری دی گئی۔
ان موضوعات میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تزویراتی اثرات، پاکستان کی انسداد دہشت گردی پالیسی میں نئی حکمت عملی اور علاقائی سلامتی کے چیلنجز شامل تھے۔
کمیٹیوں نے کشمیر میں ہائبرڈ وار فیئر اور معلوماتی ماحول کے علاقائی استحکام پر اثرات کا بھی جائزہ لیا۔ انسانی سلامتی سے متعلق مباحث میں خواتین، بچوں اور آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) اور پاکستان کے باہمی تعلقات کے پہلوؤں کو شامل کیا گیا۔
منتظمین کے مطابق ان سرگرمیوں کا مقصد نوجوانوں کو پیچیدہ علاقائی معاملات کا تجزیہ کرنے اور قابل عمل پالیسی سفارشات تیار کرنے کا موقع فراہم کرنا تھا۔
ماہرین کے پینل کے سامنے سفارشات پیش
ہر کمیٹی کے سربراہ نے اپنے گروپ کی سفارشات ماہرین کے پینل کے سامنے پیش کیں۔ پینل میں رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر شازیہ سومرو، ایڈیشنل اٹارنی جنرل پاکستان رشیدین نواز، سینئر صحافی اور پی ٹی وی نیوز کے سابق ڈائریکٹر کرنٹ افیئرز عون عباس ساہی، ڈاکٹر آدم سعود، ڈاکٹر شبانہ فیاض، شمیم شاہل اور زمان باجوہ شامل تھے۔
سفارشات کی پیش کش کے ذریعے شرکا کو اپنے خیالات منظم انداز میں بیان کرنے اور پالیسی موضوعات پر بحث میں حصہ لینے کا موقع ملا۔ تاہم، فراہم کردہ اعلامیے میں کمیٹیوں کی حتمی سفارشات کی مکمل تفصیلات شامل نہیں کی گئیں۔
او آئی سی کی کشمیر سے متعلق قرارداد کا خیرمقدم
یوتھ پالیسی ڈائیلاگ کے دوران اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کونسل کے 52ویں اجلاس میں جموں و کشمیر سے متعلق منظور کی گئی قرارداد کا بھی خیرمقدم کیا گیا۔
او آئی سی کا اجلاس 17 اور 18 اکتوبر 2026 کو بغداد، عراق میں منعقد ہوا۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق، اجلاس میں منظور کی گئی قرارداد میں متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق جموں و کشمیر تنازع کے حتمی حل کا مطالبہ کیا گیا۔
اس پیش رفت کا ذکر مکالمے میں کشمیر کے معاملے پر بین الاقوامی سفارت کاری اور کثیرالجہتی اداروں کے کردار کے تناظر میں کیا گیا۔ اس حوالے سے او آئی سی کے اجلاس اور اس میں منظور ہونے والی قراردادوں کی تفصیلات تنظیم کی سرکاری ویب سائٹ پر بھی دستیاب ہیں۔
نوجوانوں کی شمولیت اور پالیسی سازی
مکالمے کے اختتام پر شرکا نے پاکستان کو مضبوط بنانے اور مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ملکی کوششوں کو زیادہ مؤثر بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوان آگاہی، تحقیق، پالیسی سازی اور سفارتی و عوامی کوششوں میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے تاریخی پس منظر، قانونی نکات اور علاقائی سلامتی کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنا ضروری ہے۔
یوتھ پالیسی ڈائیلاگ 2026 میں مختلف موضوعات کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر زیر بحث لایا گیا۔ اس طرح نوجوانوں کو پالیسی معاملات پر اپنی سفارشات مرتب کرنے اور ماہرین کے سامنے پیش کرنے کا موقع ملا۔
خبر کا خلاصہ: انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز اور یوتھ فورم فار کشمیر کے اشتراک سے منعقدہ یوتھ پالیسی ڈائیلاگ 2026 میں 100 سے زائد نوجوان شریک ہوئے۔ مکالمے میں کشمیر، علاقائی سلامتی، انسانی حقوق، ڈیجیٹل معلوماتی ماحول اور انسانی سلامتی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکا نے چار پالیسی کمیٹیوں کے ذریعے سفارشات تیار کیں اور او آئی سی کی کشمیر سے متعلق قرارداد کا خیرمقدم کیا۔