ہر پاکستانی کی آواز…. مہنگی بجلی سے نجات

ڈاکٹر ذوالفقارعلی رحمانی کی نمایاں تصویر

کالم نگار : ڈاکٹر ذوالفقارعلی رحمانی

لندن: بجلی کے بڑھتے اخراجات کے تناظر میں ڈاکٹر ذوالفقار علی رحمانی نے پاکستان کی نہروں، دریاؤں اور آبشاروں سے بجلی پیدا کرنے کے امکانات کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کی تجویز میں بہاولپور کے ہیڈ پنجند، ہیڈ اسلام اور بڑی نہروں کے موزوں مقامات پر چھوٹے پن بجلی منصوبے قائم کرنے کے لیے باقاعدہ سروے اور آزمائشی منصوبہ شروع کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

ڈاکٹر ذوالفقار علی رحمانی، جو بہاولپور سے تعلق رکھتے ہیں اور اس وقت لندن میں مقیم ہیں، کے مطابق پانی کے موجودہ وسائل سے توانائی پیدا کرنے کے امکانات تلاش کیے جانے چاہییں تاکہ گھریلو صارفین، کسانوں اور کاروباری شعبے کو بجلی کے اخراجات میں ممکنہ ریلیف مل سکے۔

نہروں کے بہاؤ سے بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ

تجویز کے مطابق محکمۂ آبپاشی، محکمۂ توانائی اور متعلقہ تکنیکی ماہرین مل کر ایسے مقامات کی نشاندہی کریں جہاں نہروں یا بیراجوں کے پانی کے بہاؤ سے چھوٹے ہائیڈرو پاور یونٹ چلائے جا سکیں۔

نہروں کے بہاؤ سے بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ

اس مقصد کے لیے پانی کے بہاؤ، دستیاب بلندی، موسمی تبدیلیوں، مشینری کی لاگت، دیکھ بھال اور بجلی کو صارفین تک پہنچانے کے اخراجات کا جائزہ ضروری ہوگا۔ سروے سے یہ بھی معلوم کیا جا سکے گا کہ کون سے مقامات تکنیکی اور مالی اعتبار سے قابل عمل ہیں۔

پنجاب کے محکمۂ توانائی کی ویب سائٹ پر نہروں اور دریاؤں کے بعض مقامات پر پن بجلی پیدا کرنے کی گنجائش درج ہے۔ محکمہ مختلف نہری مقامات کے لیے ممکنہ پیداواری صلاحیت اور منصوبوں کی تفصیلات بھی فراہم کرتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نہروں سے بجلی پیدا کرنے کا تصور قابل غور ہے، تاہم ہیڈ پنجند اور ہیڈ اسلام پر مجوزہ منصوبوں کی مخصوص صلاحیت اور لاگت کے لیے الگ جائزہ درکار ہوگا۔

ہیڈ پنجند اور ہیڈ اسلام پر توجہ دینے کا مطالبہ

ڈاکٹر رحمانی نے بہاولپور کے ہیڈ پنجند، ہیڈ اسلام اور بڑی نہروں کے موزوں مقامات کو ابتدائی سروے میں شامل کرنے کی تجویز دی ہے۔ ان مقامات کا انتخاب کرتے ہوئے آبپاشی کے موجودہ نظام، پانی کی دستیابی اور نہروں کے بنیادی مقصد کو متاثر نہ کرنے کا خیال رکھنا ہوگا۔

ہیڈ پنجند اور ہیڈ اسلام جنوبی پنجاب کے آبپاشی نظام کے اہم حصے ہیں۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کی دستاویزات کے مطابق پنجند بیراج سے منسلک نہری نظام وسیع زرعی رقبے کو پانی فراہم کرتا ہے، جبکہ ان بیراجوں کی بہتری کے منصوبوں میں آبپاشی کی قابل اعتماد فراہمی بھی بنیادی مقصد رہی ہے۔

ہر پاکستانی کی آواز…. مہنگی بجلی سے نجات
ہیڈ پنجند اور ہیڈ اسلام کی نمایاں تصویر

اسی لیے کسی بھی پن بجلی منصوبے کی منصوبہ بندی میں یہ یقینی بنانا ضروری ہوگا کہ بجلی کی پیداوار کے لیے تنصیبات آبپاشی، پانی کی تقسیم، سیلابی گزرگاہوں یا متعلقہ بنیادی ڈھانچے کی سلامتی پر منفی اثر نہ ڈالیں۔

عام صارف کے لیے 2 روپے فی یونٹ اور کسانوں کو مفت بجلی کا ہدف

ہر پاکستانی کی آواز…. مہنگی بجلی سے نجات
عام صارف کے لیے 2 روپے فی یونٹ اور کسانوں کو مفت بجلی کا ہدف

ڈاکٹر ذوالفقار علی رحمانی نے اپنی تجویز میں عام صارف کے لیے تقریباً 2 روپے فی یونٹ بجلی اور کسانوں کے لیے مفت بجلی کی فراہمی کو ہدف کے طور پر پیش کیا ہے۔

تاہم یہ نرخ فی الحال تجویز کردہ اہداف ہیں، کسی منظور شدہ حکومتی منصوبے یا طے شدہ بجلی کے ٹیرف کی تصدیق نہیں۔ ان اہداف تک پہنچنے کے امکانات جانچنے کے لیے منصوبے کی تعمیر، آلات، مرمت، بجلی کی ترسیل، مالی معاونت اور دیگر اخراجات کا مکمل حساب درکار ہوگا۔

متعلقہ ماہرین کو یہ بھی جانچنا ہوگا کہ پیدا ہونے والی بجلی مقامی آبادی کو کس طریقے سے فراہم کی جا سکتی ہے اور موجودہ بجلی کے نظام سے اس کا رابطہ کیسے قائم ہوگا۔ حتمی نرخوں کے لیے متعلقہ ضابطہ کار اور منظوری کے تقاضے بھی دیکھنا ہوں گے۔

آزمائشی منصوبے سے آغاز کی تجویز

ڈاکٹر رحمانی کے مطابق ملک بھر میں سروے کے ساتھ کسی ایک موزوں مقام پر آزمائشی منصوبہ، یعنی پائلٹ پراجیکٹ، شروع کیا جا سکتا ہے۔ اس منصوبے کی پیداواری صلاحیت، تعمیراتی لاگت، فی یونٹ خرچ اور ماحول پر اثرات کی تفصیلات عوام کے سامنے رکھی جائیں۔

آزمائشی منصوبے سے یہ جانچنے میں مدد مل سکتی ہے کہ مقامی سطح پر چھوٹے پن بجلی یونٹ کس حد تک مؤثر رہتے ہیں اور آیا ان کا دائرہ دوسرے مقامات تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے آزادانہ تکنیکی جانچ، مالی شفافیت اور واضح نتائج اہم ہوں گے۔

ستلج ویلی پراجیکٹ سے فائدہ اٹھانے کی بات

تجویز میں سابق ریاست بہاولپور کے ستلج ویلی پراجیکٹ کے تاریخی ورثے سے مزید فائدہ اٹھانے کے امکانات تلاش کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ اس منصوبے نے خطے کے آبپاشی نظام کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

موجودہ دور میں اس ورثے کو توانائی کی پیداوار کے لیے استعمال کرنے کا امکان جانچنے کے لیے جدید انجینئرنگ، پانی کی دستیابی، ماحولیاتی تقاضوں اور موجودہ بنیادی ڈھانچے کی حالت کا جائزہ لینا ہوگا۔

توانائی منصوبوں میں شفافیت کا مطالبہ

ڈاکٹر رحمانی نے اپنے بیان میں بجلی کے موجودہ نظام میں آئی پی پیز اور مبینہ کمیشن مافیا کو مجوزہ سوچ کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا ہے۔ یہ ان کا مؤقف ہے؛ کسی مخصوص ادارے یا فریق کے خلاف الزام کی آزادانہ تصدیق کے لیے شواہد درکار ہوں گے۔

ان کی تجویز کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ ملک میں دستیاب آبی وسائل سے بجلی پیدا کرنے کی گنجائش کا منظم جائزہ لیا جائے اور نتائج عوام کے سامنے رکھے جائیں۔

اگر سروے میں کسی مقام پر منصوبہ تکنیکی، مالی اور ماحولیاتی اعتبار سے قابل عمل ثابت ہوتا ہے تو شفاف طریقے سے اس پر پیش رفت کی جا سکتی ہے۔ اس طرح نہروں سے بجلی پیدا کرنے کے امکان کو محض نعرے کے بجائے قابل پیمائش نتائج، لاگت اور عوامی فائدے کی بنیاد پر جانچا جا سکے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں