خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کا 8 اراکین اسمبلی کی مبینہ گرفتاری یا اغوا کا دعویٰ

خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کا 8 اراکین اسمبلی کی مبینہ گرفتاری یا اغوا کا دعویٰ

یوتھ ویژن نیوز : (پشاور)- خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف نے اپنے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کے خلاف کارروائیوں میں اضافے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 20 ستمبر کے بعد سے 3 ارکان قومی اسمبلی اور 5 ارکان صوبائی اسمبلی سمیت 8 منتخب نمائندے گرفتار یا مبینہ طور پر اغوا کیے گئے ہیں۔ پارٹی کے مطابق متعدد کارکن اور عہدیدار بھی لاپتا ہیں۔ تاہم تمام واقعات کی آزادانہ تصدیق ایک ہی وقت میں دستیاب نہیں ہے۔

پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کی جانب مجوزہ احتجاجی مارچ کے اعلان کے بعد پارٹی کے ارکان اسمبلی اور کارکنوں کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔ ستمبر میں متعدد پی ٹی آئی اراکین کو اسلام آباد میں حراست میں لیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں جبکہ خیبرپختونخوا میں بھی بعض منتخب نمائندوں کی گرفتاری یا مبینہ اغوا کے واقعات رپورٹ ہوئے۔

پی ٹی آئی کے مطابق کن ارکان کے بارے میں دعوے کیے گئے؟

پارٹی کے مطابق خیبرپختونخوا سے رکن قومی اسمبلی فضل محمد خان کو 22 ستمبر کو رشکئی کے قریب مبینہ طور پر اٹھایا گیا۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ان کے اہل خانہ اور ساتھیوں نے بھی واقعے کی اطلاع دی تھی جبکہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے ان کی مبینہ گمشدگی پر تشویش کا اظہار کیا۔ بعد ازاں پارٹی رہنما اسد قیصر نے یکم اکتوبر کو بھی فضل محمد خان کی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کے 22 ستمبر کو مبینہ اغوا کا ذکر کیا۔

پی ٹی آئی کی جانب سے جنوبی وزیرستان سے رکن قومی اسمبلی محمد زبیر خان وزیر سے متعلق بھی کارروائی اور گرفتاری کا دعویٰ سامنے آیا۔ پارٹی کے بیان کے مطابق ان کی رہائش گاہ کو گھیرے میں لیا گیا اور بعد میں پولیس کارروائی کے دوران انہیں گرفتار کیا گیا۔ اس واقعے کی رپورٹنگ میں پارٹی مؤقف اور مقامی حالات دونوں کا ذکر موجود ہے۔

رکن قومی اسمبلی داور خان کنڈی کی گرفتاری کی بھی الگ سے تصدیق شدہ عدالتی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ان کی حراست کو چیلنج کیا گیا، جبکہ عدالت کے ریکارڈ کے مطابق انہیں 20 ستمبر کو مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کی دفعہ 3 کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔

صوبائی وزرا اور دیگر ارکان سے متعلق دعوے

پی ٹی آئی نے صوبائی وزیر فضل شکور خان کے مبینہ اغوا کا بھی دعویٰ کیا تھا۔ ان کے بھائی کی درخواست پر مقدمہ درج ہونے اور بعد ازاں پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے پولیس کو واقعے کی تحقیقات اور ان کے بارے میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔ عدالتی کارروائی میں معاملے کو مبینہ اغوا کے طور پر بیان کیا گیا۔

اسی طرح صوبائی وزیر شکیل خان کے حوالے سے بھی پی ٹی آئی نے اغوا کی کوشش کا دعویٰ کیا تھا، تاہم دستیاب رپورٹ کے مطابق واقعے کے بعد ان کے سیکیورٹی گارڈز کی جانب سے فائرنگ اور اس واقعے سے متعلق مقدمہ بھی سامنے آیا۔ اس لیے شکیل خان کا معاملہ دیگر مبینہ اغوا کیسز سے مختلف نوعیت رکھتا ہے۔

پی ٹی آئی نے مزید محمد ریاض، سلطان روم، فتح الملک ناصر اور عبدالسلام آفریدی سمیت بعض دیگر صوبائی اسمبلی ارکان کے حوالے سے بھی گرفتاری یا مبینہ اغوا کے دعوے کیے ہیں۔ ان تمام معاملات کے بارے میں پارٹی کے بیانات سامنے آئے ہیں، تاہم ہر کیس کی آزادانہ تصدیق الگ الگ ذرائع سے دستیاب نہیں ہے۔

پی ٹی آئی کا مؤقف

تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ منتخب نمائندوں اور سیاسی کارکنوں کے خلاف کارروائیاں آئینی و جمہوری حقوق کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔ پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر کسی رکن اسمبلی کے خلاف قانونی مقدمہ یا الزام موجود ہے تو اسے قانون کے مطابق عدالت کے سامنے پیش کیا جائے اور اہل خانہ و وکلا کو قانونی رسائی دی جائے۔

پی ٹی آئی نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ سیاسی سرگرمیوں کو روکنے کے بجائے حکومت کو مذاکرات اور سیاسی ذرائع سے معاملات حل کرنے چاہئیں۔ پارٹی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے ستمبر میں بھی حکومت کے ساتھ بامعنی مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا تھا جبکہ احتجاجی سرگرمیوں کے حوالے سے سیاسی کشیدگی برقرار رہی۔

اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی کی اہم پیش رفت

ارکان اسمبلی کی گرفتاریوں اور حراست کی اطلاعات کے بعد خیبرپختونخوا اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی نے پولیس سے صوبائی وزرا اور ارکان اسمبلی کی حراست یا گرفتاری کی تفصیلات طلب کی تھیں۔ اسپیکر نے پولیس سے یہ بھی کہا تھا کہ کسی حاضر سروس رکن اسمبلی کی گرفتاری سے قبل متعلقہ آئینی و قانونی طریقہ کار کی پابندی کی جائے۔

مجموعی طور پر خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی ارکان اسمبلی سے متعلق گرفتاری اور مبینہ اغوا کے دعوے سیاسی کشیدگی میں اضافے کی عکاسی کرتے ہیں۔ تاہم مختلف کیسز کی قانونی حیثیت ایک جیسی نہیں اور کئی معاملات میں تحقیقات یا عدالتی کارروائی جاری رہی ہے۔ اس لیے ان واقعات سے متعلق حتمی ذمہ داری یا الزامات کے بارے میں فیصلہ متعلقہ حکام اور عدالتوں کی کارروائی کے بعد ہی ممکن ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں