بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائی، 3 دہشتگرد ہلاک، اسلحہ و گولہ بارود برآمد

آواران میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی

یوتھ ویژن نیوز : (کوئٹہ) – بلوچستان میں دہشتگردی کے خلاف جاری کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے ضلع آواران کے علاقے بدرنگ میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کرتے ہوئے 3 دہشتگردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ہلاک ہونے والے دہشتگردوں کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔

پاکستان آبزرور کی 17 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق یہ کارروائی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں جاری انسداد دہشتگردی سرگرمیوں کے سلسلے میں کی گئی، جبکہ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بدرنگ، آواران میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائی کی گئی۔ ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کو پاکستانی حکام کی جانب سے استعمال کی جانے والی اصطلاح ”فتنہ الہندوستان“ سے منسلک گروہ کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔

آواران میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آواران کے علاقے بدرنگ میں کارروائی مخصوص انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی۔ کارروائی کے دوران 3 دہشتگرد ہلاک ہوئے جبکہ جائے وقوعہ سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیے جانے کی اطلاع ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد علاقے میں ممکنہ طور پر موجود دیگر مشتبہ افراد کی تلاش اور کلیئرنس کے اقدامات بھی معمول کے انسداد دہشتگردی طریقہ کار کا حصہ ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سیکیورٹی ذرائع نے بلوچستان میں دہشتگردی کے خلاف مسلسل کارروائیوں کے نتیجے میں مسلح گروہوں کو نقصان پہنچنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم کسی بھی فوجی کارروائی سے متعلق تفصیلات میں سرکاری اعلانات اور سیکیورٹی ذرائع کے بیانات کو ان کے اپنے مؤقف کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔

بلوچستان میں انسداد دہشتگردی کارروائیاں جاری

یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بلوچستان کے مختلف علاقوں میں حالیہ ہفتوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے متعدد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے ہیں۔ 9 ستمبر کو آئی ایس پی آر کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا کہ خاران اور واشک میں الگ الگ کارروائیوں کے دوران 11 دہشتگرد ہلاک ہوئے جبکہ بڑی مقدار میں دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔

اس سے قبل مستونگ میں بھی سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 3 دہشتگرد ہلاک کیے جانے کی اطلاع سامنے آئی تھی، جن میں ایک کمانڈر بھی شامل تھا۔ ریاستی میڈیا کے مطابق اس کارروائی کے بعد وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا اور دہشتگردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

محسن نقوی کا سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین

آپ کی فراہم کردہ خبر کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے آواران میں کارروائی کے بعد سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا اور 3 دہشتگردوں کی ہلاکت کو دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں میں اہم پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن کے قیام کے لیے سیکیورٹی فورسز اپنے فرائض انجام دے رہی ہیں اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

محسن نقوی کے مطابق پوری قوم سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے اور دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں میں ان کے کردار اور قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ان کے اس مؤقف کا حوالہ ریاستی میڈیا اور سرکاری بیانات میں انسداد دہشتگردی کارروائیوں کے تناظر میں بھی سامنے آتا رہا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کا کارروائیاں جاری رکھنے کا مؤقف

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے اور مسلح دہشتگرد گروہوں کی سرگرمیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ذرائع کے مطابق تازہ آپریشن بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

خیال رہے کہ بلوچستان میں حالیہ دنوں کے دوران مختلف اضلاع میں سیکیورٹی آپریشنز میں متعدد دہشتگردوں کی ہلاکت اور مختلف نوعیت کا مواد برآمد کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ 14 اور 15 ستمبر کی رپورٹس میں بھی صوبے میں الگ الگ کارروائیوں کے دوران ہلاکتوں کی اطلاعات دی گئی تھیں۔

آواران کے بدرنگ علاقے میں تازہ کارروائی کے حوالے سے مزید تفصیلات سرکاری اداروں کی جانب سے سامنے آنے پر صورتحال مزید واضح ہوسکتی ہے۔ فی الحال سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن میں 3 دہشتگرد ہلاک اور اسلحہ و گولہ بارود برآمد کیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں