پٹرول کی بڑھتی قیمتوں سے پریشان عوام کیلئے بڑی خوشخبری، 100 روپے فی لٹر ریلیف
یوتھ ویژن نیوز : (اسلام آباد)- مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پاکستان میں پٹرول مہنگا ہونے کے بعد وزیراعظم محمد شہباز شریف نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے خصوصی پٹرول ریلیف سکیم کا اعلان کردیا ہے۔ نئی سکیم کے تحت موٹرسائیکل، رکشہ، چنگچی اور 800 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیاں استعمال کرنے والے افراد کو پٹرول پر 100 روپے فی لٹر ریلیف فراہم کیا جائے گا۔
موٹرسائیکل اور رکشہ والوں کو ماہانہ 20 لٹر پر ریلیف
وزیراعظم شہباز شریف کے مطابق دو اور تین پہیوں والی سواریوں، جن میں موٹرسائیکل، رکشہ اور چنگچی شامل ہیں، استعمال کرنے والوں کے لیے ماہانہ 20 لٹر پٹرول تک ریلیف مقرر کیا گیا ہے۔
اس حساب سے اہل صارفین کو ماہانہ 2 ہزار روپے تک کا پٹرول ریلیف حاصل ہوسکتا ہے، اگر وہ مقررہ 20 لٹر کو مکمل طور پر استعمال کریں۔ اس کا مقصد خاص طور پر ان افراد پر بڑھتی ہوئی پٹرول قیمتوں کا اثر کم کرنا ہے جو روزگار، کاروبار یا روزمرہ آمدورفت کے لیے موٹرسائیکل یا رکشہ استعمال کرتے ہیں۔
حکومت کی جانب سے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی تیل مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ اور خطے کی صورتحال نے پاکستان کے درآمدی ایندھن کے اخراجات پر دباؤ بڑھایا ہے۔
800 سی سی تک گاڑیوں کیلئے ماہانہ 30 لٹر ریلیف
خصوصی پٹرول ریلیف سکیم میں 800 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ وزیراعظم کے مطابق ان گاڑیوں کے مالکان کو ماہانہ 30 لٹر پٹرول پر 100 روپے فی لٹر کے حساب سے ریلیف دیا جائے گا۔
اس طرح اہل چھوٹی گاڑیوں کے صارفین کو ماہانہ زیادہ سے زیادہ 3 ہزار روپے تک ریلیف مل سکتا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ سکیم کا بنیادی مقصد کم اور متوسط آمدن والے ان شہریوں کو سہارا دینا ہے جن کے لیے پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ گھریلو بجٹ پر براہ راست اثر ڈالتا ہے۔
پاکستان میں 10 ستمبر کو پٹرول کی قیمت میں 3.05 روپے فی لٹر اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 370.80 روپے فی لٹر مقرر ہوئی۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت بھی 5.37 روپے اضافے کے بعد 398.04 روپے فی لٹر ہوگئی تھی۔
پاکستان بھر میں سکیم کب نافذ ہوگی؟
وزیراعظم کے اعلان کے مطابق خصوصی پٹرول ریلیف سکیم کا اطلاق مرحلہ وار کیا جائے گا۔ اسلام آباد کی حدود میں اس کا آغاز آئندہ پیر اور منگل کی درمیانی شب سے ہوگا، جبکہ ملک کے دیگر حصوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب سے سکیم نافذ کی جائے گی۔
اس مرحلہ وار نفاذ کا مقصد متعلقہ حکومتی اداروں، صوبائی حکومتوں اور رجسٹریشن کے نظام کو مربوط انداز میں فعال کرنا ہے تاکہ اہل افراد تک ریلیف پہنچانے کے عمل میں انتظامی رکاوٹیں کم ہوں۔
پٹرول ریلیف سکیم کی رجسٹریشن شروع
وزیراعظم شہباز شریف نے بتایا کہ خصوصی ریلیف سکیم کے لیے رجسٹریشن کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔ عوام کو رجسٹریشن کے طریقہ کار، اہلیت اور ضروری معلومات سے متعلق آگاہی مہم کے ذریعے تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔
حکومت کے مطابق موٹرسائیکل، رکشہ اور چھوٹی گاڑیوں سے متعلق ضروری معلومات جمع کرنے اور رجسٹریشن کے عمل میں صوبائی حکومتیں بھی تعاون کریں گی۔ وزیراعظم نے اس سلسلے میں صوبائی حکومتوں کے تعاون پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
اہل افراد کے لیے یہ ضروری ہوگا کہ وہ سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی رجسٹریشن ہدایات پر عمل کریں اور کسی غیر مصدقہ لنک، ایجنٹ یا غیر سرکاری پلیٹ فارم کے ذریعے ذاتی معلومات فراہم نہ کریں۔
عالمی تیل قیمتوں کے دباؤ میں عوام کیلئے ریلیف
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ عوام پر منتقل ہونے کے اثرات سے حکومت آگاہ ہے اور مشکل صورتحال میں شہریوں کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔
پاکستان پہلے ہی عالمی توانائی منڈی میں اتار چڑھاؤ کے باعث درآمدی ایندھن کی قیمتوں کے اثرات کا سامنا کر رہا ہے۔ حکومت نے حالیہ مہینوں میں پٹرولیم قیمتوں کے تعین کے نظام میں بھی اصلاحات کی ہیں۔ ستمبر کے آغاز میں پٹرولیم پرائسنگ کمیٹی نے پٹرول کی قیمتوں کے لیے نئے طریقہ کار کا جائزہ لیتے ہوئے جون 2027 کو پٹرول ڈی ریگولیشن کے ممکنہ ہدف کے طور پر مقرر کیا تھا، تاہم حتمی منظوری وزیراعظم کی سطح پر ہونا باقی تھی۔
عوام کیلئے سکیم کی اہمیت
نئی پٹرول ریلیف سکیم کا بڑا ہدف ایسے صارفین ہیں جن کے لیے موٹرسائیکل یا چھوٹی گاڑی روزگار اور روزمرہ زندگی کا لازمی ذریعہ ہے۔ 100 روپے فی لٹر ریلیف کی صورت میں موٹرسائیکل اور رکشہ صارفین کو ماہانہ 2 ہزار روپے جبکہ 800 سی سی تک کی گاڑی رکھنے والوں کو 3 ہزار روپے تک کا ممکنہ مالی فائدہ ہوسکتا ہے۔
تاہم سکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے رجسٹریشن، اہلیت کی تصدیق اور مقررہ پٹرول کوٹے سے متعلق تفصیلی طریقہ کار کا انتظار کرنا ہوگا۔ حکومت کی جانب سے جب مکمل رجسٹریشن گائیڈ لائن جاری کی جائے گی تو عوام کے لیے یہ واضح ہوگا کہ ریلیف براہ راست کس طریقے سے فراہم کیا جائے گا۔
حالیہ اقدام سے حکومت نے عالمی تیل کی قیمتوں کے دباؤ کے دوران کم آمدن اور چھوٹی گاڑیاں استعمال کرنے والے شہریوں کو فوری مالی سہولت دینے کی کوشش کی ہے۔ اب سکیم کی کامیابی کا انحصار اس کے شفاف نفاذ، درست ہدف بندی اور اہل صارفین تک بروقت ریلیف پہنچانے پر ہوگا۔