پاکستان سمیت 8 ممالک کا اسرائیلی بستیوں کے خلاف برطانوی پابندیوں کا خیرمقدم

پاکستان سمیت 8 ممالک کا اسرائیلی بستیوں کے خلاف برطانوی پابندیوں کا خیرمقدم

یوتھ ویژن نیوز : (اسلام آباد)- پاکستان سمیت آٹھ ممالک نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے خلاف برطانیہ کی جانب سے عائد کی گئی تجارتی پابندیوں اور متعلقہ خدمات پر restrictions کا خیرمقدم کرتے ہوئے عالمی برادری سے بھی اسی نوعیت کے مؤثر اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مشترکہ بیان میں پاکستان، ترکیہ، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اسرائیلی آبادکاری کے خلاف عالمی سطح پر احتساب اور عملی اقدامات پر زور دیا۔

برطانیہ کے اقدام کا 8 ممالک کی جانب سے خیرمقدم

آٹھ ممالک کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں برطانیہ کے اس فیصلے کو سراہا گیا جس کے تحت مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بیان میں بستیوں سے منسلک بعض خدمات پر پابندیوں کے اقدام کا بھی خیرمقدم کیا گیا۔

برطانیہ نے یہ اقدامات اسرائیلی بستیوں کی مسلسل توسیع اور مقبوضہ مغربی کنارے میں بڑھتی ہوئی آبادکاری کے تناظر میں کیے ہیں۔ برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ آبادکاری کی سرگرمیاں دو ریاستی حل کے امکانات کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔

آٹھ ممالک نے امید ظاہر کی کہ برطانوی اقدام عالمی برادری کو بھی متحرک کرے گا تاکہ بین الاقوامی قانون کے مطابق غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے خلاف مزید اقدامات کیے جا سکیں۔

بستیوں سے منسلک افراد اور تنظیموں کے احتساب کا مطالبہ

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ ان تنظیموں اور افراد کا احتساب ہونا چاہیے جو غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ آٹھ ممالک نے عالمی برادری پر زور دیا کہ بستیوں سے تجارت کے معاملے میں محض بیانات تک محدود رہنے کے بجائے ٹھوس اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

پاکستان اور دیگر ممالک نے اس مؤقف کو بھی دہرایا کہ اسرائیلی آبادکاری کی سرگرمیاں بین الاقوامی قانون اور متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں سے متصادم ہیں۔ آٹھ ممالک اس سے قبل بھی مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی آبادکاری کی پالیسی اور مغربی کنارے میں نئی بستیوں کے منصوبوں کی مخالفت کر چکے ہیں۔

قرارداد 2334 اور عالمی قانونی مؤقف

مشترکہ بیان میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 سمیت بین الاقوامی قانونی فریم ورک کا حوالہ دیتے ہوئے اسرائیلی آبادکاری کو غیر قانونی قرار دینے والے عالمی مؤقف پر زور دیا گیا۔

آٹھ ممالک کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی جغرافیائی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کے اقدامات واپس لینے چاہئیں۔ ان کے مطابق آبادکاری کی پالیسی فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ خطے میں پائیدار امن کے امکانات کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔

یہ مؤقف آٹھ ممالک کی جانب سے اگست 2026 میں جاری کیے گئے مشترکہ بیان سے بھی ہم آہنگ ہے، جس میں اسرائیل کے E1 آبادکاری منصوبے اور مقبوضہ مشرقی یروشلم کے مشرق میں آبادکاری کی سرگرمیوں کو مسترد کیا گیا تھا۔

غزہ کو فلسطینی علاقے کا لازمی حصہ قرار دے دیا

مشترکہ اعلامیے میں غزہ کو مقبوضہ فلسطینی علاقے کا لازمی حصہ قرار دیتے ہوئے وہاں جاری بحران کے خاتمے کے لیے جامع اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

آٹھ ممالک نے غزہ میں سکیورٹی، استحکام، انسانی امداد اور تعمیر نو کو یقینی بنانے کی ضرورت اجاگر کی۔ اعلامیے میں صدر ٹرمپ کے جامع امن منصوبے پر مکمل اور فوری عملدرآمد پر بھی زور دیا گیا۔

ان ممالک کا کہنا ہے کہ غزہ کے مستقبل کو وسیع تر فلسطینی سیاسی تناظر سے الگ نہیں کیا جا سکتا اور کسی بھی پائیدار انتظام میں فلسطینی عوام کے حقوق اور سیاسی امنگوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

دو ریاستی حل ہی قابلِ عمل راستہ قرار

پاکستان سمیت آٹھ ممالک نے دیرپا اور جامع امن کے لیے دو ریاستی حل کو واحد قابلِ عمل راستہ قرار دیا۔ مشترکہ مؤقف کے مطابق 4 جون 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد، خودمختار اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کا قیام ضروری ہے۔

بیان میں مشرقی یروشلم کو مجوزہ آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بنانے کی حمایت بھی کی گئی۔ یہ مؤقف پاکستان سمیت ان ممالک کے اس مسلسل سفارتی مؤقف کا حصہ ہے جس میں فلسطینی ریاست کے قیام اور اسرائیل فلسطین تنازع کے سیاسی حل پر زور دیا جاتا رہا ہے۔

دوسری جانب برطانیہ، فرانس، کینیڈا اور دیگر ممالک نے بھی حالیہ دنوں میں اسرائیلی بستیوں کے حوالے سے تجارتی یا دیگر پابندیوں پر غور یا عملدرآمد کا اعلان کیا ہے۔ برطانوی حکومت کے مطابق اس کا مقصد دو ریاستی حل کے امکانات کو محفوظ رکھنا ہے۔

تازہ مشترکہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی آبادکاری کے معاملے پر عرب اور مسلم ممالک عالمی سطح پر مزید عملی اقدامات کے خواہاں ہیں۔ پاکستان سمیت آٹھ ممالک نے برطانوی اقدام کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ عالمی برادری کو بھی غیر قانونی بستیوں سے متعلق تجارت، خدمات اور آبادکاری کی سرگرمیوں کے خلاف مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں۔

دیرپا امن کے لیے مشترکہ بیان میں دو ریاستی حل، فلسطینی ریاست کے قیام، غزہ کی تعمیر نو اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی حیثیت میں یکطرفہ تبدیلی روکنے کو بنیادی نکات قرار دیا گیا ہے۔

نوٹ: اسرائیلی بستیوں کی قانونی حیثیت سے متعلق متن میں بیان کردہ مؤقف متعلقہ ممالک کے مشترکہ اعلامیے اور بین الاقوامی اداروں کے قانونی و سفارتی مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں