رومانس کے بغیر شادی، 2 سہیلیوں نے زندگی بھر ساتھ رہنے کا فیصلہ کیوں کیا؟
یوتھ ویژن نیوز : (لاس اینجلس)- شادی کو عموماً رومانوی محبت اور ازدواجی کشش سے جوڑا جاتا ہے، لیکن رینی وونگ اور ایپریل لی کی کہانی اس روایتی تصور سے مختلف ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو صرف 12 سال کی عمر سے جانتی ہیں اور برسوں کی گہری دوستی کے بعد 2024 میں قانونی طور پر شادی کرچکی ہیں۔ تاہم ان کے مطابق ان کے درمیان کبھی رومانوی یا جسمانی کشش نہیں رہی۔
دونوں خواتین ایک ہی گھر میں رہتی ہیں، مالی معاملات میں شراکت دار ہیں، مستقبل کے منصوبے مل کر بناتی ہیں اور ایک دوسرے کو زندگی کی سب سے اہم رفاقت سمجھتی ہیں۔ وہ اپنے تعلق کو رومانوی جوڑے کے بجائے گہری، غیر رومانوی شراکت داری قرار دیتی ہیں۔
12 سال کی عمر سے شروع ہونے والی دوستی
رینی اور ایپریل کی ملاقات سنگاپور کے ایک اسکول میں ہوئی۔ کم عمری ہی میں دونوں کے درمیان ایسی گہری دوستی قائم ہوگئی کہ وہ اسکول، اضافی کلاسز اور مذہبی و خاندانی تقریبات سمیت تقریباً ہر سرگرمی ایک ساتھ کرنے لگیں۔
وقت کے ساتھ یہ دوستی بہنوں جیسی قربت میں تبدیل ہوگئی اور دونوں خاندان بھی ایک دوسرے کے قریب آگئے۔ بعد میں رینی اعلیٰ تعلیم کے لیے لاس اینجلس منتقل ہوگئیں جبکہ ایپریل سنگاپور میں رہیں، لیکن جغرافیائی فاصلے کے باوجود ان کا رابطہ برقرار رہا۔
کورونا وبا نے تعلق کی اہمیت واضح کردی
رینی کے مطابق کووڈ 19 کی وبا کے دوران دونوں کے درمیان روزانہ کئی گھنٹوں تک گفتگو ہونے لگی۔ سرحدوں کی بندش اور مختلف ٹائم زونز کے باوجود ان کی دوستی پہلے سے زیادہ مضبوط ہوئی۔
اسی عرصے میں رینی کو احساس ہوا کہ اگر زندگی میں کوئی شخص ہر مشکل اور اہم مرحلے میں اس کے ساتھ رہتا ہے تو وہ ایپریل ہے۔ ان کے مطابق یہ احساس رومانوی محبت نہیں تھا بلکہ گہری رفاقت اور اعتماد پر مبنی تھا۔
یہی سوچ بالآخر اس سوال تک پہنچی کہ اگر وہ زندگی کے اہم ترین لمحات ایک دوسرے کے ساتھ بانٹنا چاہتی ہیں تو پھر اپنی زندگیاں بھی باضابطہ طور پر ایک دوسرے سے کیوں نہ جوڑیں۔
2024 میں قانونی شادی
بالآخر دونوں نے 2024 کے آغاز میں لاس اینجلس میں قانونی طور پر شادی کرلی۔ ان کے مطابق شادی کا مقصد کسی رومانوی تعلق کو باقاعدہ بنانا نہیں تھا بلکہ برسوں سے قائم دوستی اور باہمی وابستگی کو ایک مستقل شراکت داری کی شکل دینا تھا۔
رینی اور ایپریل خود کو ابیلنگی قرار دیتی ہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ ایک دوسرے کے لیے ان کے جذبات رومانوی یا جسمانی کشش پر مبنی نہیں ہیں۔ ان کے نزدیک ان کا تعلق اعتماد، دوستی، تعاون اور مشترکہ زندگی کی بنیاد پر قائم ہے۔
مشترکہ گھر اور مالی ذمہ داریاں
دونوں خواتین کی شراکت صرف جذباتی وابستگی تک محدود نہیں۔ وہ ایک ہی گھر میں رہتی ہیں اور اپنی آمدنی کو مشترکہ مالی نظام کے ذریعے استعمال کرتی ہیں۔
ایپریل کے مطابق ایک مرحلے پر ان پر کریڈٹ کارڈ کا قرض تھا، جبکہ رینی کو ملازمت سے بونس ملا۔ رینی نے اس رقم سے ایپریل کا قرض ادا کردیا۔ ان کے نزدیک اس طرح کے اقدامات اس بات کی مثال ہیں کہ زندگی کے ساتھی کا کردار صرف جذباتی قربت نہیں بلکہ مشکل وقت میں عملی تعاون بھی ہے۔
کیا یہ صرف بہترین دوستی ہے؟
رینی اور ایپریل سے اکثر پوچھا جاتا ہے کہ اگر ان کے درمیان رومانس نہیں تو وہ صرف بہترین دوست کیوں نہیں رہیں؟
رینی کے مطابق ان کے لیے شریک حیات کا مطلب صرف رومانوی ساتھی نہیں بلکہ وہ شخص ہے جس کے ساتھ زندگی کے اہم فیصلے، ذمہ داریاں، مالی معاملات اور مستقبل کے منصوبے بانٹے جائیں۔ ان کے نزدیک ایپریل کئی برسوں سے یہ کردار ادا کر رہی ہیں۔
دونوں کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ان کی زندگیوں میں دوسرے رومانوی تعلقات آ سکتے ہیں، تاہم وہ سمجھتی ہیں کہ ایسا کوئی تعلق ان کی بنیادی شراکت داری کے لیے خطرہ نہیں ہوگا۔
نفسیات میں ایسے تعلق کو کیا کہا جاتا ہے؟
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے تعلقات کو بعض اوقات افلاطونی شراکت یا غیر رومانوی زندگی بھر کی رفاقت جیسے تصورات سے بیان کیا جاتا ہے۔ تاہم اس موضوع پر سائنسی تحقیق ابھی محدود ہے اور اس کی کوئی ایک متفقہ تعریف موجود نہیں۔
سماجی نفسیات کے ماہرین کے مطابق بعض دیرپا تعلقات وقت کے ساتھ رومانوی کشش سے زیادہ دوستی، باہمی اعتماد، جذباتی تعاون اور مشترکہ ذمہ داریوں پر قائم ہوجاتے ہیں۔
افلاطونی محبت کا تصور تاریخی طور پر ایسی وابستگی سے منسلک رہا ہے جس میں جسمانی کشش کے بجائے فکری، جذباتی اور شخصی قربت کو اہمیت دی جاتی ہے۔ جدید دور میں افلاطونی شراکت اسی تصور کی ایک نئی شکل کے طور پر زیر بحث آ رہی ہے۔
خاندان اور معاشرتی ردعمل
سنگاپور میں پرورش پانے والی دونوں خواتین کے لیے یہ فیصلہ ابتدا میں غیر معمولی تھا۔ ان کے خاندان بھی پہلے اس رشتے کی نوعیت پر حیران ہوئے، تاہم دونوں کے مطابق چونکہ وہ بچپن سے ایک دوسرے کے قریب تھیں، اس لیے وقت کے ساتھ خاندانوں کے لیے ان کے فیصلے کو سمجھنا آسان ہوگیا۔
2024 میں ہونے والی شادی ایک سادہ تقریب تھی جس میں ان کے قریبی دوست شریک ہوئے۔ دونوں اس وقت لاس اینجلس میں رہتی ہیں اور مستقبل میں بچوں کے حوالے سے بھی منصوبے رکھتی ہیں۔
ان کے مطابق ان کی کہانی کا بنیادی نکتہ یہ نہیں کہ رومانوی محبت غیر اہم ہے، بلکہ یہ ہے کہ زندگی کی گہری اور پائیدار رفاقت مختلف شکلیں اختیار کرسکتی ہے۔
رینی اور ایپریل کی کہانی اس سوال کو ضرور سامنے لاتی ہے کہ کیا زندگی بھر کی شراکت داری کے لیے رومانوی کشش لازمی شرط ہے یا اعتماد، دوستی، مشترکہ ذمہ داری اور ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہنے کا عزم بھی کسی تعلق کو اتنا ہی مضبوط بنا سکتا ہے؟ ان دونوں کے لیے جواب واضح ہے: ان کی شادی کی بنیاد رومانس نہیں بلکہ برسوں سے قائم رفاقت ہے۔