فیلڈ مارشل عاصم منیر کل تہران جائیں گے، ایرانی وزارت خارجہ نے دورے کی تصدیق کردی
یوتھ ویژن نیوز : (اسلام آباد)- ایرانی وزارت خارجہ نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ایران کے دورے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پیر کو تہران جائیں گے، جہاں اہم ملاقاتیں متوقع ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق دورے کا مقصد پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورہ تہران کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، دوطرفہ تعاون اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورے کا مقصد کیا ہے؟
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ پاکستان اور ایران کے درمیان تعاون کو مزید مستحکم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
ترجمان نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون موجود ہے اور اعلیٰ سطحی روابط سے باہمی تعلقات کو مزید آگے بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔
دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال متوقع ہے، جبکہ خطے میں امن و سلامتی سے متعلق معاملات بھی گفتگو کا حصہ بن سکتے ہیں۔
علاقائی امن و سلامتی پر بھی بات چیت متوقع
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورے کو خطے میں امن و سلامتی کے فروغ کیلئے پاکستان کی کوششوں کا تسلسل قرار دیا ہے۔
جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کی موجودہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں پاکستان اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی مشاورت کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ دونوں ممالک خطے میں رونما ہونے والی سیاسی اور سیکیورٹی پیش رفت پر ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں رہے ہیں۔
عاصم منیر اور عباس عراقچی میں ٹیلیفونک رابطہ
فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورہ ایران سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ان کا ٹیلیفونک رابطہ بھی ہوا تھا۔
ایرانی حکومت کے مطابق رابطے کے دوران علاقائی صورتحال اور جنوبی ایشیا میں امن و استحکام سے متعلق امور پر گفتگو کی گئی۔ دونوں جانب سے سفارتی رجحانات اور موجودہ حالات کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ بھی لیا گیا۔
یہ رابطہ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی مشاورت کے تسلسل کی نشاندہی کرتا ہے۔
پاکستان ایران تعاون میں اہم رابطہ
پاکستان اور ایران کے درمیان تاریخی، جغرافیائی اور ثقافتی روابط موجود ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی امور، تجارت، توانائی، علاقائی سلامتی اور باہمی تعاون سمیت مختلف معاملات پر وقتاً فوقتاً بات چیت ہوتی رہی ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ تہران بھی اسی اعلیٰ سطحی رابطے کا حصہ ہے، جس کے دوران دونوں جانب سے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر غور کیا جائے گا۔
ایرانی صدر کا موجودہ صورتحال پر مؤقف
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملک کو درپیش موجودہ حالات پر گفتگو کی۔
ایرانی صدر کے مطابق ایران کو معاشی، فوجی اور سیکیورٹی سطح پر مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے امریکی پابندیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران ان حالات کے باوجود ثابت قدم ہے۔
مسعود پزشکیان نے مزید کہا کہ ایران کو درپیش مشکلات پر قابو پانے کیلئے کوششیں جاری ہیں اور ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے اتحاد اور تعاون کو اہمیت حاصل ہے۔
خطے کی صورتحال کے تناظر میں دورہ اہم
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ تہران ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے کی سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال مسلسل اہمیت اختیار کیے ہوئے ہے۔
پاکستان پہلے بھی خطے میں امن، استحکام اور تنازعات کے سفارتی حل کی ضرورت پر زور دیتا رہا ہے۔ ایران کے ساتھ اعلیٰ سطحی رابطے اسی تناظر میں دونوں ممالک کیلئے اہمیت رکھتے ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورے کے دوران دوطرفہ تعاون اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
دورے کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان موجودہ رابطوں کو مزید آگے بڑھانے اور باہمی تعاون کے نئے امکانات پیدا ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔ تاہم دورے کے دوران ہونے والی ملاقاتوں اور مذاکرات کے حتمی نکات سامنے آنے کے بعد ہی ان کے نتائج کی مکمل تصویر واضح ہوگی۔