پاکستان اور جاپان میں ترقیاتی تعاون بڑھانے پر اتفاق، ML-1 منصوبہ بھی ایجنڈے میں شامل
یوتھ ویژن نیوز : (اسلام آباد) — پاکستان نے جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (جائیکا) کو مین لائن ون (ML-1) ریلوے منصوبے میں شریک مالی معاونت پر غور کرنے کی دعوت دیتے ہوئے ترقیاتی تعاون کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد چیمہ نے کہا ہے کہ ML-1 پاکستان کے ٹرانسپورٹ نظام، تجارت اور صنعتی روابط کے لیے ایک اہم منصوبہ ہے، جس کی حمایت ایشیائی ترقیاتی بینک اور دیگر ترقیاتی شراکت دار بھی کر رہے ہیں۔
جائیکا کے ساتھ سات دہائیوں پر محیط شراکت داری
اسلام آباد میں جائیکا کے صدر ڈاکٹر تاناکا آکی ہیکو کی قیادت میں اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کے دوران وفاقی وزیر احد چیمہ نے پاکستان اور جاپان کے درمیان طویل عرصے سے جاری ترقیاتی شراکت داری کو سراہا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ جاپان اور جائیکا کی جانب سے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران پاکستان میں مختلف شعبوں کے لیے فراہم کی جانے والی ترقیاتی معاونت نے ملکی سماجی اور اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق جاپانی تعاون توانائی، ٹرانسپورٹ، صنعت، زراعت، آبی وسائل، صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں تک پھیلا ہوا ہے۔
ML-1 منصوبے میں جائیکا کی ممکنہ شمولیت
ملاقات کے دوران احد چیمہ نے جائیکا کو پاکستان کے اہم ریلوے منصوبے مین لائن ون (ML-1) میں شریک مالی معاونت پر غور کرنے کی دعوت دی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ML-1 کی جدید خطوط پر تعمیر اور اپ گریڈیشن سے ملک کے ٹرانسپورٹ نظام میں بہتری آئے گی، جبکہ تجارتی سرگرمیوں، صنعتی روابط اور معاشی ترقی کو بھی فروغ ملے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک اور دیگر ترقیاتی شراکت دار پہلے ہی اس اہم منصوبے کے لیے تعاون کر رہے ہیں۔
جائیکا کے صدر ڈاکٹر تاناکا آکی ہیکو نے ML-1 منصوبے کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے پاکستان کی تجویز پر مثبت انداز میں غور کرنے کا عندیہ دیا۔
ہنرمند افرادی قوت کی تیاری پر بھی زور
ملاقات میں پاکستان میں ہنرمند افرادی قوت کی تیاری کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ احد چیمہ نے کہا کہ جدید عالمی لیبر مارکیٹ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے نوجوانوں کو جدید اور مارکیٹ سے ہم آہنگ مہارتیں فراہم کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے جائیکا سے مستقبل کے منصوبوں میں تکنیکی اور فنی تربیت کے شعبے کو مزید اہمیت دینے کی درخواست کی۔ جائیکا کے صدر نے اس تجویز کی حمایت کرتے ہوئے مستقبل کے تعاون میں اس شعبے کو شامل کرنے پر غور کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
دیہی علاقوں میں ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کی تجویز
وفاقی وزیر نے ڈیجیٹل معیشت کو پاکستان کی مستقبل کی ترقی کا اہم شعبہ قرار دیتے ہوئے دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر بہتر بنانے کے لیے جائیکا کے تعاون کی درخواست بھی کی۔
انہوں نے کہا کہ بہتر ڈیجیٹل رابطوں سے فری لانسرز، چھوٹے کاروباری افراد اور ای کامرس سے وابستہ نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ جائیکا کے صدر نے اس تجویز کو سراہتے ہوئے اسے جامع معاشی ترقی کے لیے مفید قرار دیا۔
بڑے منصوبوں کے لیے فزیبلٹی اسٹڈیز میں تعاون
احد چیمہ نے بڑے ترقیاتی منصوبوں کے لیے معیاری فزیبلٹی اسٹڈیز تیار کرنے میں بھی جائیکا سے تعاون طلب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مضبوط اور قابلِ عمل فزیبلٹی اسٹڈی سرمایہ کاری کے حصول، منصوبہ بندی اور منصوبوں کی کامیاب تکمیل میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
ڈاکٹر تاناکا آکی ہیکو نے کہا کہ فزیبلٹی اسٹڈیز جائیکا کی بنیادی مہارتوں میں شامل ہیں اور ادارہ اس سلسلے میں پاکستان کو تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
سیاحت اور گندھارا تہذیب کے تحفظ پر گفتگو
ملاقات میں پاکستان کے سیاحتی شعبے اور تاریخی ورثے کے تحفظ کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ احد چیمہ نے خصوصاً گندھارا تہذیب سے وابستہ تاریخی مقامات اور فنون کے تحفظ، بحالی اور ترقی میں جاپانی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ ثقافتی ورثے کے تحفظ کے ساتھ سیاحتی سرگرمیوں کو فروغ دینے سے نہ صرف معاشی مواقع پیدا ہوں گے بلکہ پاکستان اور جاپان کے عوام کے درمیان روابط بھی مزید مضبوط ہوں گے۔
پاکستان کی معاشی اصلاحات اور ترقیاتی ترجیحات
وفاقی وزیر نے جائیکا کے وفد کو پاکستان کی معاشی صورتحال اور حکومتی اصلاحات سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت محتاط معاشی نظم و نسق اور ساختی اصلاحات کے ذریعے طویل المدتی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے حصول کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
احد چیمہ کے مطابق پاکستان نے عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ جاری پروگراموں کے تحت اہم پیش رفت کی ہے اور معاشی اشاریوں میں بہتری کے لیے اصلاحاتی عمل جاری ہے۔
جائیکا کے صدر نے پاکستان کی معاشی اصلاحات اور اقتصادی بنیادوں کو مضبوط بنانے کی کوششوں کو سراہا۔
پاکستان اور جاپان کے درمیان تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق
ملاقات کے اختتام پر پاکستان اور جاپان نے ترقیاتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں جانب سے انفراسٹرکچر، ریلوے، انسانی وسائل، ڈیجیٹل معیشت، سیاحت اور دیگر ترجیحی شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
ML-1 منصوبے میں ممکنہ جائیکا معاونت، ہنرمند افرادی قوت کی تیاری، ڈیجیٹل رابطوں میں بہتری اور تاریخی ورثے کے تحفظ سے متعلق تجاویز اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پاکستان اور جاپان اپنی دیرینہ شراکت داری کو نئے شعبوں تک وسعت دینے کے خواہاں ہیں۔ اگر مجوزہ تعاون عملی شکل اختیار کرتا ہے تو اس سے پاکستان کے انفراسٹرکچر، انسانی وسائل اور معاشی سرگرمیوں کے مختلف شعبوں میں نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔