صومالی وزیر دفاع کا اعلیٰ عسکری قیادت سے ملاقات، دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق

صومالی وزیر دفاع کی پاکستان میں نیول چیف اور ایئر چیف سے ملاقات

صومالی وزیر دفاع کا دورہ پاکستان، نیول چیف اور ایئر چیف سے ملاقاتیں، دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق

یوتھ ویژن نیوز: (راولپنڈی) — صومالیہ کے اعلیٰ سطحی دفاعی وفد نے پاکستان کا دورہ کیا، جس کے دوران صومالی وزیر دفاع نے پاکستان کی اعلیٰ عسکری قیادت سے اہم ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں میں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، علاقائی سلامتی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ دفاعی شعبے میں دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق صومالی وزیر دفاع نے چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران علاقائی بحری سلامتی، پاکستان اور صومالیہ کے درمیان دوطرفہ دفاعی تعاون اور پیشہ ورانہ امور سمیت مختلف موضوعات پر گفتگو ہوئی۔

صومالی وزیر دفاع کی نیول چیف سے ملاقات

آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں دونوں جانب سے خطے کی بحری سلامتی کی صورتحال اور باہمی دفاعی تعاون سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔ صومالی وزیر دفاع نے علاقائی سلامتی اور استحکام میں پاک بحریہ کے کردار کو سراہا۔

ملاقات میں دفاعی شعبے میں تعاون کو مزید وسعت دینے اور دونوں ممالک کے متعلقہ اداروں کے درمیان روابط کو مضبوط بنانے کے امکانات پر بھی بات چیت کی گئی۔ پاکستان اور صومالیہ کے درمیان دفاعی روابط دونوں ممالک کے وسیع تر دوطرفہ تعلقات کا اہم حصہ ہیں۔

صومالی وفد کی ایئر چیف سے بھی ملاقات

صومالی دفاعی وفد نے پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سلامتی اور دفاعی تعاون سے متعلق معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق صومالی وزیر دفاع نے پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ مہارت، آپریشنل صلاحیتوں اور دفاعی شعبے میں خدمات کو سراہا۔

ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان فضائی دفاع اور متعلقہ شعبوں میں ادارہ جاتی تعاون کو مزید فروغ دینے کے امکانات پر بھی گفتگو ہوئی۔ پاک فضائیہ کی جانب سے صومالی فضائیہ کے ساتھ تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

پاکستان اور صومالیہ کا دفاعی تعاون بڑھانے کا عزم

ملاقاتوں میں پاکستان اور صومالیہ کے درمیان دفاعی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ دونوں جانب سے اس بات پر زور دیا گیا کہ باہمی تعاون اور ادارہ جاتی روابط کو فروغ دے کر دفاعی شعبے میں مشترکہ مفادات کو مزید آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔

پاکستان طویل عرصے سے مختلف ممالک کے ساتھ دفاعی تربیت، پیشہ ورانہ روابط اور عسکری اداروں کے درمیان تعاون کے ذریعے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ صومالیہ کے ساتھ بھی دفاعی شعبے میں تعاون دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کا ایک اہم پہلو سمجھا جاتا ہے۔

علاقائی بحری سلامتی پر بھی توجہ

ملاقات میں علاقائی بحری سلامتی کا معاملہ بھی خاص اہمیت کا حامل رہا۔ بحرِ ہند اور اس سے منسلک بحری راستوں کی سکیورٹی خطے کی تجارت اور معاشی سرگرمیوں کے لیے اہم ہے۔ پاکستان بحری سلامتی اور سمندری راستوں کے تحفظ کے حوالے سے مختلف علاقائی اور بین الاقوامی اقدامات میں اپنا کردار ادا کرتا رہا ہے۔

صومالیہ بھی بحری سلامتی کے حوالے سے اہم جغرافیائی حیثیت رکھتا ہے، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان بحری شعبے میں تجربات اور پیشہ ورانہ روابط کا تبادلہ باہمی مفاد کا باعث بن سکتا ہے۔

دفاعی روابط میں مزید وسعت کے امکانات

صومالی وزیر دفاع کے دورہ پاکستان اور اعلیٰ عسکری قیادت سے ملاقاتوں کو دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات میں مزید پیش رفت کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ پاک بحریہ اور پاک فضائیہ کی قیادت کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال اور دفاعی تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان اور صومالیہ اپنے دفاعی روابط کو مزید مضبوط بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

ملاقاتوں کے اختتام پر دونوں جانب سے دفاعی شعبے میں تعاون، پیشہ ورانہ روابط اور ادارہ جاتی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں