چین کی روبوٹکس برآمدات میں 18.6 فیصد اضافہ، اے آئی اور جدید ٹیکنالوجی کا عروج
چین کی روبوٹکس برآمدات میں 18.6 فیصد اضافہ، اے آئی اور جدید ٹیکنالوجی کا عروج
یوتھ ویژن نیوز : (عفان گوہر سے) چین کی صنعتی روبوٹکس برآمدات میں 18.6 فیصد اضافہ، مصنوعی ذہانت اور اختراعی ادویات عالمی منڈی میں نمایاں
چین جدید ٹیکنالوجی اور اعلیٰ معیار کی مینوفیکچرنگ کے میدان میں مسلسل پیش رفت کر رہا ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 2026 کی پہلی ششماہی میں چین کی صنعتی روبوٹکس برآمدات میں سالانہ بنیادوں پر 18.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ مصنوعی ذہانت (AI)، روبوٹکس اور اختراعی ادویات چین کی برآمدات کے تین نمایاں اور تیزی سے ترقی کرنے والے شعبوں کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
چینی میڈیا کے مطابق چائنا میڈیا گروپ (CGTN) کی جانب سے دنیا بھر کے صارفین پر کیے گئے ایک بین الاقوامی سروے میں 93.1 فیصد شرکاء نے اس بات سے اتفاق کیا کہ چین کی نئی برآمدی حکمت عملی اس امر کی عکاس ہے کہ چینی کمپنیاں اب عالمی منڈی میں صرف مصنوعات نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی، ذہین نظام (Intelligent Systems) اور مؤثر حل بھی فراہم کر رہی ہیں۔
صنعتی روبوٹکس میں نمایاں ترقی
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کی پہلی ششماہی میں صنعتی روبوٹکس کی برآمدات میں 18.6 فیصد سالانہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی عرصے کے دوران چین کے تیار کردہ انٹیلیجنٹ بائیونک روبوٹس کی برآمدات دس ہزار یونٹس سے تجاوز کر گئیں، جبکہ یہ جدید روبوٹ 90 سے زائد ممالک اور خطوں تک پہنچائے گئے۔
ماہرین کے مطابق صنعتی آٹومیشن، اسمارٹ مینوفیکچرنگ اور مصنوعی ذہانت کے امتزاج نے چینی روبوٹکس انڈسٹری کو عالمی سطح پر مزید مضبوط کیا ہے، جس کے باعث بین الاقوامی مارکیٹ میں چینی مصنوعات کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
اختراعی ادویات بھی نمایاں شعبہ
رپورٹ کے مطابق چین کی اختراعی ادویات (Innovative Medicines) کی بیرونی لائسنس ٹرانزیکشنز کا مجموعی حجم تقریباً 110 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جو ملک کے بائیو ٹیکنالوجی اور فارماسیوٹیکل شعبے کی تیز رفتار ترقی کی عکاسی کرتا ہے۔
صحت کے شعبے میں تحقیق، نئی ادویات کی تیاری اور عالمی شراکت داری نے چین کو اس شعبے میں بھی نمایاں مقام دلایا ہے۔
عالمی سروے میں مثبت ردعمل
سی جی ٹی این کے بین الاقوامی سروے میں دنیا بھر سے ہزاروں افراد نے حصہ لیا۔ نتائج کے مطابق 87.7 فیصد شرکاء کا کہنا تھا کہ چین کے نئے برآمدی شعبے اس کی مضبوط مینوفیکچرنگ صلاحیت کو ظاہر کرتے ہیں۔
اسی طرح 83.8 فیصد افراد نے کہا کہ چینی مینوفیکچرنگ تیزی سے ماحول دوست، پائیدار اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی نظام کی جانب منتقل ہو رہی ہے۔
مزید 91.3 فیصد جواب دہندگان کے مطابق چین کی مسابقتی برتری اب صرف بڑے پیمانے پر پیداوار تک محدود نہیں رہی بلکہ معیار، جدید ٹیکنالوجی، مضبوط برانڈز اور بہتر خدمات کی بنیاد پر مزید مستحکم ہو چکی ہے۔
اس کے علاوہ 89.5 فیصد شرکاء نے رائے دی کہ چین کے نئے برآمدی شعبے عالمی مینوفیکچرنگ میں جدت، سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کے لیے نئے مواقع پیدا کریں گے۔
عالمی تجارت میں چین کا بڑھتا کردار
معاشی ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور بائیو میڈیکل تحقیق میں مسلسل سرمایہ کاری نے چین کو عالمی صنعتی اور ٹیکنالوجی مارکیٹ میں ایک اہم کردار ادا کرنے کے قابل بنایا ہے۔
ٹیکنالوجی پر مبنی برآمدات میں اضافہ نہ صرف چین کی اقتصادی ترقی کو تقویت دے رہا ہے بلکہ عالمی سپلائی چین، صنعتی خودکار نظام اور جدید مینوفیکچرنگ کے مستقبل پر بھی مثبت اثرات مرتب کر رہا ہے۔
سی جی ٹی این کے مطابق یہ سروے انگریزی، ہسپانوی، فرانسیسی، عربی اور روسی پلیٹ فارمز پر شائع کیا گیا، جس میں 24 گھنٹوں کے دوران 3,339 افراد نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔