پیٹرولیم قیمتوں میں روزانہ چھوٹی تبدیلی زیادہ بہتر ہے، مشیر وزیر خزانہ

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد پیٹرولیم مصنوعات کی روزانہ قیمتوں کے تعین پر گفتگو کرتے ہوئے

یوتھ ویژن نیوز : (عمران قذافی سے) –مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد نے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ معمولی تبدیلی صارفین، مارکیٹ اور ملکی معیشت کے لیے زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ اس سے ذخیرہ اندوزی کی حوصلہ شکنی ہوگی اور قیمتوں میں اچانک اضافے کا بوجھ بھی کم ہوگا۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ تعین کرنے کے طریقہ کار پر مختلف اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عالمی منڈی میں قیمتیں نسبتاً مستحکم رہیں تو روزانہ کی بنیاد پر معمولی ردوبدل کا فارمولا زیادہ کامیاب ثابت ہوگا۔

خرم شہزاد نے کہا کہ ہفتہ وار یا 15 روز بعد قیمتوں میں بڑی تبدیلی سے عوام پر یکمشت مالی بوجھ پڑتا ہے، جبکہ روزانہ معمولی ردوبدل سے قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

ایک ہفتے میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ

حکومت کی جانب سے روزانہ قیمتوں کے تعین کے نظام کے آغاز کے بعد صرف ایک ہفتے کے دوران پیٹرول 20 روپے 81 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 55 روپے 36 پیسے فی لیٹر مہنگا ہو چکا ہے۔

پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق:

  • 18 جولائی: پیٹرول 5 روپے 44 پیسے اور ڈیزل 31 روپے 5 پیسے فی لیٹر مہنگا کیا گیا۔
  • 21 جولائی: پیٹرول 35 پیسے فی لیٹر سستا جبکہ ڈیزل 5 روپے 71 پیسے مہنگا کیا گیا۔
  • 22 جولائی: پیٹرول 4 روپے 93 پیسے اور ڈیزل 7 روپے 15 پیسے فی لیٹر مہنگا کیا گیا۔
  • 23 جولائی: پیٹرول 6 روپے 39 پیسے جبکہ ڈیزل 7 روپے 83 پیسے فی لیٹر مہنگا ہوا۔
  • 24 جولائی: پیٹرول 4 روپے 40 پیسے اور ڈیزل 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر مزید مہنگا کیا گیا۔

ان مسلسل اضافوں کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 335 روپے 18 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 383 روپے 46 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔

اوگرا کو روزانہ قیمتوں کے تعین کی ذمہ داری

واضح رہے کہ 17 جولائی کو وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا تھا کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں اور درآمدی لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کرے گی۔ حکومت کے مطابق اس نظام کا مقصد مارکیٹ میں شفافیت بڑھانا، مصنوعی قلت اور ذخیرہ اندوزی کی روک تھام کرنا اور صارفین کو عالمی قیمتوں کے مطابق بروقت ریلیف فراہم کرنا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں