غزہ میں غذائی صورتحال میں بہتری، مگر مسلسل امداد نہ ملی تو پیش رفت ختم ہونے کا خدشہ، اقوام متحدہ کا انتباہ
یوتھ ویژن نیوز : (علی رضا سے) اقوام متحدہ کے مطابق امدادی سرگرمیوں میں اضافے سے غذائی بحران میں کمی آئی، تاہم صورتحال اب بھی انتہائی نازک ہے۔
اقوام متحدہ: اقوام متحدہ کے تین اہم اداروں نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں غذائی صورتحال میں حالیہ بہتری عارضی اور نازک ہے، اگر انسانی امداد، مالی معاونت اور بحالی کے اقدامات مسلسل جاری نہ رہے تو یہ پیش رفت تیزی سے ختم ہو سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (FAO)، یونیسیف (UNICEF) اور عالمی خوراک پروگرام (WFP) کی جانب سے جاری مشترکہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگ سے متاثرہ غزہ میں لاکھوں افراد اب بھی خوراک، روزگار، بنیادی سہولیات اور مقامی غذائی نظام کی بحالی کے شدید مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔
غزہ میں غذائی تحفظ کی صورتحال میں بہتری
عالمی خوراک پروگرام (WFP) کے قائم مقام سربراہ کارل اسکاؤ نے کہا کہ غزہ میں غذائی تحفظ کی صورتحال میں کچھ بہتری ضرور آئی ہے، تاہم یہ بہت نازک ہے اور کسی بھی وقت دوبارہ بگڑ سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ غزہ کے خاندان اب بھی صاف پانی، صفائی کی سہولیات، ادویات اور بنیادی ضروریات کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں، اس لیے مسلسل انسانی امداد، مالی وسائل اور استحکام ناگزیر ہیں۔
لاکھوں افراد اب بھی غذائی عدم تحفظ کا شکار
اقوام متحدہ کے تعاون سے تیار کردہ عالمی غذائی تحفظ کے جائزے (IPC) کے مطابق غزہ کی تقریباً 14 لاکھ آبادی اب بھی شدید غذائی عدم تحفظ یا اس سے بھی بدتر صورتحال کا شکار ہے۔
رپورٹ کے مطابق تقریباً 2 لاکھ 12 ہزار افراد ہنگامی سطح کی غذائی قلت (IPC Phase 4) سے متاثر ہیں، جبکہ ان میں سے بڑی تعداد اسرائیلی کنٹرول والی یلو لائن کے قریب علاقوں میں رہتی ہے جہاں امداد اور بنیادی سہولیات تک رسائی انتہائی محدود ہے۔
امدادی سرگرمیوں سے صورتحال میں بہتری
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے بعد انسانی امدادی کارروائیوں میں نمایاں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں خوراک کی فراہمی اور بچوں کی غذائی صحت میں بہتری دیکھی گئی۔
اقوام متحدہ کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں امدادی سامان کی ترسیل میں اضافہ ہوا ہے، تاہم خوراک کی مقدار، معیار اور غذائیت اب بھی مطلوبہ سطح سے کم ہے۔
غذائیت سے بھرپور خوراک کی کمی برقرار
اقوام متحدہ نے خبردار کیا کہ اگرچہ امدادی رسائی بہتر ہوئی ہے، لیکن تازہ سبزیوں، پروٹین سے بھرپور غذاؤں اور دیگر ضروری اشیاء کی مسلسل فراہمی یقینی نہیں بنائی جا سکی۔
رپورٹ کے مطابق جنوبی غزہ میں صرف کرم شالوم (ابو سالم) کراسنگ کھلی ہونے کے باعث امدادی سامان کی ترسیل محدود ہے، جس کی وجہ سے بیشتر آبادی اب بھی مکمل طور پر امداد پر انحصار کر رہی ہے۔
ہزاروں بچوں اور خواتین کو غذائی معاونت درکار
اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق آئندہ ایک سال کے دوران تقریباً 74 ہزار بچوں کو شدید غذائی قلت کے علاج کی ضرورت ہوگی، جبکہ 25 ہزار حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کو بھی خصوصی غذائی معاونت درکار ہوگی۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ شمالی غزہ، غزہ سٹی، دیر البلح اور خان یونس میں غذائی قلت کے خطرات بدستور برقرار ہیں۔
مقامی معیشت اور زرعی شعبے کی بحالی ضروری
اقوام متحدہ کے اداروں نے زور دیا کہ غزہ میں پائیدار غذائی تحفظ اسی وقت ممکن ہوگا جب مقامی زراعت، ماہی گیری، مویشی پالنے اور دیگر معاشی سرگرمیوں کو دوبارہ فعال بنایا جائے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ بعض علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کے باعث بھیڑوں کی تعداد میں 33 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ محدود پیمانے پر کاروباری سرگرمیاں بھی دوبارہ شروع ہوئی ہیں، تاہم مکمل بحالی کے لیے کسانوں، ماہی گیروں اور مقامی کاروباری افراد کو زمین، پانی، توانائی اور زرعی وسائل تک مستقل رسائی فراہم کرنا ضروری ہے۔