اربیل میں امریکی قونصل خانے کے قریب ڈرون مار گرایا گیا، عراقی فضائی دفاع متحرک
یوتھ ویژن نیوز : (عثمان خان سے) عراق کے کردستان ریجن کے دارالحکومت اربیل میں امریکی قونصل خانے کے قریب ایک ڈرون مار گرائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ عراقی فضائی دفاعی نظام نے علاقے میں سکیورٹی مزید سخت کر دی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی خدشات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
امریکی قونصل خانے کے قریب ڈرون مار گرایا گیا
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ عراقی فضائی دفاعی نظام نے اربیل میں امریکی قونصل خانے کے قریب پرواز کرنے والے ایک ڈرون کو کامیابی سے تباہ کر دیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی جبکہ مزید فضائی نگرانی بھی شروع کر دی گئی۔
گزشتہ روز بھی پانچ ڈرون تباہ کیے گئے تھے
بی بی سی فارسی کے مطابق عراقی کردستان کی انسدادِ دہشت گردی فورسز نے گزشتہ روز اعلان کیا تھا کہ امریکا کی قیادت میں قائم بین الاقوامی اتحاد نے اربیل کی فضائی حدود میں پانچ ڈرون مار گرائے تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں ڈرون سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
ایران پر الزامات، اربیل میں امریکی تنصیبات ہائی الرٹ
خطے میں کشیدگی بڑھنے کے بعد اربیل کی فضائی حدود میں متعدد ڈرون مار گرائے جا چکے ہیں۔ کردستان ریجنل حکومت کے بعض حکام ان ڈرون حملوں کا ذمہ دار ایران کو قرار دیتے ہیں، تاہم ایران کی جانب سے ان الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اربیل میں امریکا کا خطے کے اہم ترین قونصل خانوں میں سے ایک بھی موجود ہے، جس کے باعث یہاں سکیورٹی انتہائی سخت رکھی جاتی ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی برقرار
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب امریکا کی جانب سے ایران پر مسلسل 13 راتوں تک حملوں اور اس کے جواب میں ایرانی کارروائیوں کے بعد گزشتہ رات سے اب تک دونوں ممالک کے درمیان کسی نئے حملے یا جوابی کارروائی کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔ ماہرین کے مطابق موجودہ خاموشی عارضی ثابت ہو سکتی ہے جبکہ سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال پر عالمی تشویش
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عراق، خصوصاً اربیل کی فضائی حدود مسلسل نگرانی میں ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق امریکی تنصیبات کے قریب ڈرون سرگرمیوں میں اضافہ نہ صرف عراق بلکہ پورے خطے کی سلامتی، فضائی تحفظ اور بین الاقوامی استحکام کے لیے ایک اہم چیلنج بنتا جا رہا ہے۔