حماس کے نئے سربراہ خلیل الحیہ کا پہلا خطاب، غزہ کی تعمیرِ نو اور قومی اتحاد کو اولین ترجیح قرار دے دیا
اسرائیلی حملوں کے فوری خاتمے، فلسطینی اتحاد اور عالمی برادری سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ
یوتھ ویژن نیوز : (غزہ)- حماس کے نومنتخب سربراہ خلیل الحیہ نے عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے جامع خطاب میں غزہ کی تعمیرِ نو، فلسطینی قومی اتحاد اور اسرائیلی حملوں کے خاتمے کو اپنی قیادت کی اولین ترجیحات قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطین میں امن کے بغیر پورے مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار استحکام ممکن نہیں۔
فلسطین کا استحکام پورے خطے کے امن کی بنیاد ہے
عرب میڈیا کے مطابق خلیل الحیہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ فلسطینی عوام کا استحکام پورے خطے کے امن اور سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطین کے مسئلے کا منصفانہ حل نکالے بغیر خطے میں دیرپا امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔
غزہ کے عوام کے تحفظ پر عالمی برادری سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ
حماس کے سربراہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ میں شہریوں کے تحفظ، انسانی بحران کے خاتمے اور جنگ بندی پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے فعال کردار ادا کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر جنگ بندی کے باوجود غزہ کے عوام کو تحفظ فراہم نہیں کیا جاتا تو عالمی انصاف اور انسانی حقوق کے اصول اپنی اہمیت کھو دیں گے۔
غزہ کی تعمیرِ نو اور عوام کی مشکلات کا خاتمہ اولین ترجیح
خلیل الحیہ نے غزہ کے عوام کو یقین دلایا کہ حماس ہر ممکن اقدامات کرے گی تاکہ جنگ سے متاثرہ شہریوں کی مشکلات، تکالیف اور مصائب کا خاتمہ کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ باوقار زندگی ہر فلسطینی کا بنیادی حق ہے اور غزہ کی تعمیرِ نو، بنیادی سہولیات کی بحالی اور عوام کی فلاح کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
اسرائیلی حملوں کے خاتمے اور فلسطینی حقوق کے تحفظ کا عزم
حماس کے نئے سربراہ نے کہا کہ ان کی قیادت کی اولین ترجیح غزہ پر جاری اسرائیلی حملوں کا مکمل خاتمہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ حماس غزہ، مقبوضہ مغربی کنارے، بیت المقدس اور اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی سیاسی اور سفارتی جدوجہد جاری رکھے گی۔
فلسطینی جماعتوں کو اتحاد کی دعوت
خلیل الحیہ نے تمام فلسطینی سیاسی جماعتوں اور قومی قوتوں کو اتحاد کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ قومی اتحاد ہی فلسطینی عوام کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اختلافات کو پس پشت ڈال کر مشترکہ قومی مفادات کے لیے مل کر کام کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مصر، قطر اور ترکیہ کے کردار کو سراہا
حماس کے سربراہ نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے پر مصر، قطر اور ترکیہ کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ ان ممالک نے خونریزی روکنے اور مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں کی ہیں، جنہیں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
جنگ بندی معاہدے پر مکمل عمل درآمد کا مطالبہ
خلیل الحیہ نے جنگ بندی مذاکرات میں شامل ثالث ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل پر مؤثر دباؤ ڈالیں تاکہ طے شدہ معاہدے پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات اسی وقت کامیاب ہو سکتے ہیں جب تمام فریق اپنی ذمہ داریوں اور طے شدہ شرائط کی مکمل پابندی کریں۔
نتیجہ
حماس کے نئے سربراہ خلیل الحیہ کے پہلے خطاب میں غزہ کی تعمیرِ نو، فلسطینی قومی اتحاد، جنگ بندی کے مکمل نفاذ اور عالمی برادری کے مؤثر کردار پر زور دیا گیا۔ ان کے بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب غزہ کی صورتحال اور مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کوششیں عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔