ایس اینڈ پی نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ B- سے بڑھا کر B کر دی، معاشی استحکام پر عالمی اعتماد میں اضافہ

ایس اینڈ پی گلوبل کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری

مالیاتی خسارے میں کمی، ٹیکس اصلاحات اور آئی ایم ایف پروگرام پر مؤثر عملدرآمد کو اپ گریڈ کی بڑی وجوہات قرار دیا گیا

یوتھ ویژن نیوز : (اسلام آباد)- عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی ایس اینڈ پی گلوبل (S&P Global) نے پاکستان کی طویل مدتی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ B- (بی مائنس) سے بڑھا کر B (بی) کر دی ہے، جبکہ ملک کا آؤٹ لک "اسٹیبل” (Stable) برقرار رکھا گیا ہے۔ یہ پیش رفت پاکستان کی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ سمجھی جا رہی ہے اور عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کی عکاس ہے۔

ایس اینڈ پی کی رپورٹ میں اپ گریڈ کی وجوہات

بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایس اینڈ پی گلوبل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کی بنیادی وجوہات میں آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اصلاحات پر مؤثر عملدرآمد، ادارہ جاتی استحکام، مالیاتی نظم و ضبط اور معاشی اشاریوں میں مثبت پیش رفت شامل ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے ٹیکس نیٹ میں توسیع، محصولات میں اضافہ اور مالیاتی خسارے میں کمی کے اقدامات کے باعث قرضوں کے بوجھ کو بتدریج کم کرنے کی راہ ہموار ہوئی ہے، جس نے ملکی معیشت کو زیادہ مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

آئی ایم ایف پروگرام سے معاشی استحکام میں بہتری

ایس اینڈ پی گلوبل کے مطابق آئی ایم ایف کے تعاون سے نافذ کی جانے والی معاشی اصلاحات نے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ، بیرونی مالی دباؤ میں کمی اور مالیاتی استحکام کو بہتر بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ٹیکس اصلاحات اور بیرونی مالی معاونت نے پاکستان کی معیشت کو ممکنہ عالمی معاشی جھٹکوں کا مقابلہ کرنے کے لیے زیادہ مضبوط بنایا ہے۔

بیرونی ادائیگیوں اور مالی معاونت پر مثبت توقعات

ایجنسی کا کہنا ہے کہ سرکاری ذرائع سے مسلسل مالی معاونت آئندہ بارہ ماہ کے دوران پاکستان کو بیرونی ادائیگیوں کی ذمہ داریاں پوری کرنے اور کمرشل قرضوں کے رول اوور میں مدد فراہم کرے گی، جس کے باعث ملک کا آؤٹ لک اسٹیبل برقرار رکھا گیا ہے۔

امریکا سے ممکنہ مالی سہولت پر بھی پیش رفت

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اس وقت بیرونی مالی وسائل کے حصول کے لیے مختلف آپشنز پر کام کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان اور امریکا کے درمیان 10 ارب ڈالر کی مجوزہ ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سہولت پر بھی بات چیت جاری ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ سہولت منظور ہو جاتی ہے تو زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ، روپے پر دباؤ میں کمی اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں پر انحصار کم ہونے میں مدد مل سکتی ہے۔

معاشی شرح نمو اور مہنگائی سے متعلق پیش گوئی

ایس اینڈ پی گلوبل نے اپنی رپورٹ میں مالی سال 2027 کے لیے پاکستان کی شرح نمو 3.5 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث توانائی کی عالمی قیمتوں میں اضافے کے باوجود پاکستان میں مہنگائی کے دباؤ کو محدود رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

پاکستانی معیشت کے لیے اس پیش رفت کی اہمیت

ماہرین اقتصادیات کے مطابق عالمی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری پاکستان کی معیشت پر بین الاقوامی اعتماد میں اضافے کا اشارہ ہے، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاری، مالیاتی مارکیٹوں میں اعتماد، قرضوں کی لاگت میں بہتری اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔

نتیجہ

ایس اینڈ پی گلوبل کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری ملک کی معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط پر عالمی اعتماد کا اظہار ہے۔ اگر اصلاحات کا سلسلہ جاری رہا اور بیرونی مالی معاونت میں استحکام برقرار رہا تو آنے والے برسوں میں پاکستان کی معاشی کارکردگی مزید بہتر ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں