فارم 45 کا بندوبست آپ کریں، فارم 47 کا میں کر لوں گا، بلاول بھٹو کا شگر میں عوامی خطاب
شگر (یوتھ ویژن نیوز) – چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے شگر کے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "فارم 45 کا بندوبست آپ کر لیں، فارم 47 کا میں کر لوں گا۔” انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ انتخابی دن گھروں سے نکلیں، ووٹ ڈالیں اور فارم 45 حاصل کرکے گھر جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک بار پھر شگر کے عوام کے پاس واپس آئے ہیں کیونکہ گلگت بلتستان کے عوام نے ہمیشہ پیپلز پارٹی کا ساتھ دیا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو نے یہاں کے غریب، کمزور اور پسماندہ طبقے کا ساتھ دیا تھا۔
ذوالفقار علی بھٹو کی خدمات اور سبسڈی کا تحفہ
بلاول بھٹو نے کہا کہ جب ذوالفقار علی بھٹو گلگت بلتستان آئے تو انہوں نے یہاں غربت، پسماندگی اور مہنگائی دیکھی اور کہا تھا کہ "گلگت بلتستان کے عوام کی قسمت میں ہمیشہ غریب رہنا نہیں لکھا۔” انہوں نے روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ صرف بلند نہیں کیا بلکہ اس پر عملدرآمد بھی کیا، اور گلگت بلتستان کے لیے سبسڈی کا تحفہ دیا جو آج بھی جاری ہے۔
ان کے مطابق گندم اور پیٹرول پر سبسڈی بھی بھٹو کے نعرے کا نتیجہ ہے، اور پاکستان کی جوہری قوت بھی انہی کی وجہ سے ہے۔
شہداء کی قربانیاں بے کار نہ گئیں
بلاول بھٹو نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو شہید کرنے والوں نے سمجھا تھا کہ غریبوں، مزدوروں، کسانوں، طلبہ اور جمہوریت کی آواز کو خاموش کر دیا جائے گا، لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے پارٹی کا پرچم سنبھالا اور تین دہائیوں تک عوام، خواتین، نوجوانوں، مزدوروں اور کسانوں کی آواز بنی رہیں۔
انہوں نے کہا کہ عوام کی محبت اور حمایت کی وجہ سے بے نظیر بھٹو مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم بنیں اور دو مرتبہ یہ منصب سنبھالا۔ آج بھی دنیا میں پاکستان کی شناخت بے نظیر بھٹو کے ذریعے کی جاتی ہے۔
اپنے دورِ وزارتِ خارجہ کا حوالہ
بلاول بھٹو نے کہا کہ جب وہ وزیرِ خارجہ تھے تو عالمی رہنما انہیں صرف کم عمر وزیرِ خارجہ ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ بے نظیر بھٹو کے بیٹے اور ذوالفقار علی بھٹو کے نواسے ہونے کی وجہ سے بھی عزت دیتے تھے۔
انتخابی شفافیت اور فارم 45 و 47 پر زور
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ گزشتہ انتخابات میں پارٹی سے نشستیں چھین لی گئی تھیں، اس بار عوام کو یقینی بنانا ہوگا کہ پیپلز پارٹی کا امیدوار اسمبلی میں پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کا نمائندہ منتخب ہوگا تو وسائل اور ترقیاتی امور کے لیے مؤثر رابطہ کر سکے گا۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ انتخابی دن گھروں سے نکلیں، ووٹ ڈالیں اور فارم 45 حاصل کرکے گھر جائیں۔ انہیں یقین ہے کہ اس بار پیپلز پارٹی کے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں ہوگی۔
گلگت بلتستان کو آئینی حقوق دینے کا عزم
بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے عوام کو بھی اٹھارہویں آئینی ترمیم کی طرز پر اختیارات اور حقوق دلائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے انتخابات پاکستان کے عام انتخابات کے ساتھ کرائے جائیں تاکہ حقِ خودارادیت کی جدوجہد کو تقویت ملے۔
انہوں نے کہا کہ دیگر جماعتیں ہر معاملہ اسلام آباد سے چلانا چاہتی ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ گلگت بلتستان کے فیصلے یہاں کے عوام اور ان کے منتخب نمائندے خود کریں۔
حقِ ملکیت اور مقامی وسائل
بلاول بھٹو نے کہا کہ بعض سیاسی جماعتیں مقامی وسائل کو اپنا ذاتی اثاثہ سمجھتی ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ پہاڑ، زمین اور قدرتی وسائل مقامی عوام کی ملکیت ہیں۔ انہوں نے سندھ میں تھر کول منصوبے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ مقامی آبادی کو اختیار دینے سے ترقی اور معاشی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شگر، گلگت بلتستان اور پورے پاکستان کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا ان کی ذمہ داری ہے، اور یہ اسی صورت ممکن ہے جب عوامی نمائندے منتخب ہوں اور مقامی لوگوں کو حقِ ملکیت حاصل ہو۔